ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق آسٹریلیا نے جمعرات کو آن لائن تحفظ مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا قانون پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے، جس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو صارفین کو الگورتھم کی بنیاد پر تجویز کردہ مواد بند کرنے کی سہولت دینا ہو گی۔
ڈیجیٹل ڈیوٹی آف کیئر بل 2026 ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پابند کرے گا کہ وہ آن لائن نقصانات ہونے کے بعد ردِعمل دینے کے بجائے پہلے ہی ان کی روک تھام کریں۔ وزیرِ مواصلات انیکا ویلز کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق 16 سال سے زائد عمر کے صارفین یہ انتخاب کر سکیں گے کہ ان کی مرکزی فیڈ الگورتھم کی تجویز کردہ ہو یا صرف ان اکاؤنٹس پر مشتمل ہو جنہیں وہ فالو کرتے ہیں۔
مجوزہ قانون سوشل میڈیا، گیمنگ سروسز، ایپس اور اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے کم از کم حفاظتی معیار مقرر کرے گا۔ پلیٹ فارمز کو 18 سال سے کم عمر صارفین کو کھانے کی بیماریوں کو فروغ دینے والے، خطرناک کرتبوں، مجرمانہ رویے اور خواتین کے خلاف نفرت پر مبنی مواد سے بچانا ہو گا۔ بل ای سیفٹی کمشنر کو اے آئی کے ذریعے برہنہ تصاویر بنانے والی سروسز ہٹانے کا اختیار دے گا، اور سائبر بُلنگ کی شکایات پر کارروائی کی مہلت 48 سے کم کر کے 24 گھنٹے کر دے گا۔
خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر 10 کروڑ 92 لاکھ آسٹریلوی ڈالر (تقریباً 7 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر) تک جرمانہ ہو سکے گا، جبکہ پیشہ ورانہ خبری اور تفریحی مواد ان شقوں سے مستثنیٰ ہو گا۔ بل ایوانِ نمائندگان میں پیش کیا گیا ہے اور قانون بننے کے لیے اسے سینیٹ سمیت دونوں ایوانوں سے منظوری درکار ہے۔ آسٹریلیا اس سے پہلے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیاں لگا چکا ہے۔ مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
