بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے طویل ہونے یا توانائی کی پیداوار، بحری تجارت اور اہم بنیادی ڈھانچے میں نئی رکاوٹیں آنے سے خطے کی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے شعبے کے سربراہ جہاد ازعور نے بینکاک میں بتایا کہ تنازع کے معاشی اثرات تمام ممالک پر یکساں نہیں پڑ رہے۔ براہِ راست متاثرہ معیشتوں کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ متبادل تجارتی راستوں اور موجودہ ذخائر نے وقتی سہارا دیا ہے۔
ادارے کے مطابق مستقبل کی صورتحال کا بڑا انحصار توانائی کی پیداوار اور تجارتی نقل و حرکت کی معمول پر واپسی پر ہوگا۔ خطے کے لیے مزید تفصیلی اقتصادی جائزہ 22 اکتوبر کو جاری ہونے کی توقع ہے۔
