پیرس: فرانس میں ہفتہ 17 اکتوبر کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، تعلیمی سہولتوں کی کمی اور عوامی خدمات کی صورتحال کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ فرانسیسی وزیراعظم سباستین لیکورنو نے بتایا کہ احتجاج کے دوران تقریباً 1,200 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
وزیراعظم نے پیرس میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں سے ملاقات کے موقع پر تشدد کی شدت پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ زیادہ جانی نقصان نہ ہونا خوش قسمتی ہے۔ انہوں نے پرتشدد واقعات میں ملوث افراد کی مذمت کی اور انتہائی بائیں بازو کے عناصر پر الزام عائد کیا۔ یہ وزیراعظم کا سیاسی مؤقف ہے، جبکہ بڑی تعداد میں مظاہرین نے پُرامن احتجاج کیا۔
فرانس کی وزارتِ داخلہ نے ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار بتائی جبکہ احتجاج میں شریک سی جی ٹی ٹریڈ یونین نے یہ تعداد تقریباً 8 لاکھ بتائی۔ ان اعداد میں فرق ہے اور انہیں متعلقہ ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔
پیرس سمیت مختلف شہروں میں پولیس اور بعض مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا۔ متعدد مقامات پر املاک کو نقصان پہنچا، آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آئے۔ پولیس نے بعض مقامات پر آنسو گیس اور واٹر کینن استعمال کیے۔
مظاہروں کی ایک اہم وجہ زندگی گزارنے کی بڑھتی قیمت اور سرکاری اسکولوں میں سہولتوں کی کمی تھی۔ احتجاج کے دوران پولیس کے طاقت کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج کا حق برقرار ہے مگر تشدد اور لوٹ مار ناقابلِ قبول ہیں۔
