بیجنگ: ایکسپریس ٹریبیون پر شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین نے سولر آلات کی تیاری میں استعمال ہونے والی 12 ٹیکنالوجیز پر برآمدی کنٹرول کی تجویز دی ہے اور اس کی وجہ قومی سلامتی کے خدشات بتائی ہے۔ یہ تجویز ایک وسیع تر نظرِ ثانی کا حصہ ہے جس میں مصنوعی ذہانت اور بائیو ٹیکنالوجی بھی شامل ہیں۔
چینی وزارتِ تجارت نے جمعہ کو اپنے بیان میں کہا کہ فوٹو وولٹائک ٹیکنالوجیز اب خلائی اور قومی دفاع جیسے حساس شعبوں میں بھی استعمال ہو رہی ہیں، اس لیے ان کی زیادہ نگرانی ضروری ہے۔ وزارت کے مطابق مقصد ٹیکنالوجی کے بے قابو یا غلط پھیلاؤ کو روکنا ہے، جبکہ معمول کا بین الاقوامی سائنسی تعاون جاری رہے گا۔
تجویز کے تحت پتلے ویفرز، پیرووسکائٹ اور ٹینڈم سولر سیلز بنانے کی بعض ٹیکنالوجیز اور بڑے پیمانے پر فلوئیڈائزڈ بیڈ طریقے سے پولی سلیکون کی تیاری کی ٹیکنالوجی کی برآمد پر پابندی ہوگی۔ ٹاپ کون، ایچ جے ٹی اور ایکس بی سی جیسی جدید سولر سیل ٹیکنالوجیز کی برآمد پر مکمل پابندی کے بجائے محدود کنٹرول ہوگا۔
برآمدی کنٹرول کی فہرست باضابطہ طور پر اپڈیٹ ہونے تک برآمد کنندگان کو بیرونِ ملک بعض ٹیکنالوجی منتقلیوں کی رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق چین پہلے ہی بھارت کو سولر مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کی برآمد محدود کر چکا ہے، اور تجزیہ کاروں کے خیال میں بیجنگ اس شعبے میں اپنی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
