دوحہ: ایکسپریس ٹریبیون اور جیو نیوز کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پیر کو قطر کے دارالحکومت میں ہونے والے آٹھویں گلوبل سکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'امن جیتنا جنگ جیتنے سے کہیں زیادہ اہم ہے'۔
اہم نکات
- پاکستان اور قطر امریکہ ایران کشیدگی میں ثالث کا کردار ادا کرتے رہے ہیں
- نقوی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ذاتی کوششوں کو مذاکرات کے دروازے کھولنے کا اہم عنصر قرار دیا
- مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو 'دفاع کا معاہدہ، جنگ کا نہیں' کہا
'کریڈٹ نہیں، امن مقصد تھا'
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کا مقصد کبھی کریڈٹ لینا نہیں رہا بلکہ مزید تصادم روکنا اور بے گناہ جانیں بچانا تھا۔ ان کے بقول نازک گھڑی میں پاکستان نے امن کا راستہ چنا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ خود فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ تہران کے دوروں اور ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں شریک رہے اور دیکھا کہ یہ بات چیت کتنی مشکل تھی۔ 'کئی لمحات ایسے آئے جب صورتحال انتہائی کشیدہ تھی، مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ امن ایک ملاقات میں حاصل نہیں ہوتا'۔
ثالثی کا سفر
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیرِ داخلہ نے یاد دلایا کہ اپریل میں پاکستان نے اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کی اور جون میں پاکستان اور قطر نے بطور ثالث 'اسلام آباد ایم او یو' پر دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے تین سبق ملے: مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہ کیے جائیں، اعتماد ہر بات چیت کی کنجی ہے، اور کوئی ایک ملک اکیلے علاقائی امن قائم نہیں کر سکتا۔
مکہ دفاعی معاہدہ
نقوی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو علاقائی سلامتی سے پاکستان کی وابستگی کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفاع کا معاہدہ ہے، جنگ کا نہیں۔
موجودہ صورتحال
جیو نیوز کے مطابق یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں اور یمن میں حوثی باغی سعودی عرب کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون اور جیو نیوز پر۔
