لاہور: جیو نیوز کے مطابق وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ ایک جماعت کے سربراہ اس بات پر ناخوش ہیں کہ انہیں کے پی کی گورنر شپ یا نئے انتظامی سیٹ اپ میں کوئی کردار نہیں ملا۔
نقوی نے نام لیے بغیر دعویٰ کیا کہ یہ رہنما دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے سہارے سیاست میں رہے، یہاں تک کہ ان کی جماعت کے فضائی ٹکٹوں کا انتظام بھی اسٹیبلشمنٹ کرتی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف دلیل اور حقائق سے ہونا چاہیے، نازیبا زبان اور الزامات سے نہیں۔
وزیرِ داخلہ نے سابق فاٹا کے وسائل پر تشویش ظاہر کرنے والے رہنماؤں سے سوال کیا کہ جب یہ اضلاع برسوں اپنا حق نہیں لے پا رہے تھے تب وہ کیوں خاموش تھے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کو اس وقت سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے اور صوبے کو سیاسی محاذ آرائی کے بجائے امن اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام 'نیا پاکستان' میں کہا کہ اس اقدام کی مخالفت کرنے والے نئے سیٹ اپ میں حصہ چاہتے تھے مگر نہیں ملا۔ ادھر وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے سینئر سیاستدان سے، جو خود دہشت گردی کا نشانہ بنے، یہ توقع نہیں تھی کہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کا ساتھ دیں گے۔
واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس کے بعد گورنر فیصل کریم کنڈی 11 رکنی مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبائی حکومت کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔
مزید تفصیل جیو نیوز پر۔
