کوئٹہ: جیو نیوز کے مطابق بلوچستان حکومت نے اتوار کو واضح کیا ہے کہ پاک ایران سرحد کی عارضی بندش کا مقصد سکیورٹی خدشات دور کرنا، اسمگلنگ روکنا اور سرحدی انتظام بہتر بنانا ہے، اور اس بارے میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کو مسترد کر دیا۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے ایک بیان میں کہا کہ سرحد سے متعلق انتظامی معاملات کے حل کے لیے پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور موجودہ پیش رفت کے پیشِ نظر سرحد جلد دوبارہ کھلنے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحدی امور بہتر بنانے، اسمگلنگ روکنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایک مربوط نظام تیار کیا جا رہا ہے، جس سے سرحدی علاقوں میں بے چینی کم ہوگی اور تاجروں کو بہتر سہولیات ملیں گی۔ انہوں نے عوام سے غیر مصدقہ معلومات پر کان نہ دھرنے کی اپیل کی۔
دوسری جانب کوئٹہ چیمبر آف کامرس پہلے کہہ چکا ہے کہ بندش سے تجارت متاثر ہوئی ہے اور دونوں جانب تقریباً 2,000 مال بردار ٹرک پھنسے ہوئے ہیں۔ چیمبر کے مطابق ایران سے تجارت کرنے والوں کو نئی خریداری روکنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور وزارتِ تجارت نے ایران سے درآمدی سامان کی نئی بکنگ عارضی طور پر روکنے کی ہدایت کی ہے۔
مزید تفصیل جیو نیوز پر۔
