مواد پر جائیں
زیرِ پیش رفت

مکہ میں بیٹے کی پھانسی، قرض تلے دبا باپ

بنگلہ دیش کے عبدالبصیر نے سات لاکھ ٹکا قرض لے کر اپنے بیٹے نذرالاسلام کو سعودی عرب بھیجا تھا؛ اب بیٹا 14 اکتوبر کو مکہ میں پھانسی پا چکا ہے اور باپ میت کی واپسی اور انصاف کا طلبگار ہے۔

شائع شدہ

تازہ کاری

4 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

عبدالبصیر نے جب سات لاکھ ٹکا قرض لیا تھا تو ان کے ذہن میں ایک ہی خواب تھا: ان کا بڑا بیٹا نذرالاسلام سعودی عرب جا کر محنت کرے گا اور خاندان کو غربت کے چنگل سے نکال لائے گا۔ بنگلہ دیشی اخبار ڈیلی اسٹار کے مطابق آج وہی قرض ان کے سر پر بوجھ ہے، اور 22 سالہ بیٹا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ نذرالاسلام کو 14 اکتوبر کو مکہ مکرمہ میں پھانسی دے دی گئی، اور یہ خبر انہیں کسی سرکاری اطلاع سے نہیں بلکہ میڈیا کے ذریعے ملی۔

ایک خواب، جو چھ ماہ میں بکھر گیا

چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑے نذرالاسلام 10 نومبر 2022 کو برہمن باڑیہ کے گاؤں بیرام پور سے سعودی عرب روانہ ہوئے، جہاں انہیں صفائی کا کام ملا۔ مگر روانگی کے محض چھ ماہ بعد، خاندان کے بقول، سعودی پولیس نے انہیں اور سویٹی اختر نامی ایک نوجوان خاتون کو مکہ کی ایک مسجد میں "غیر اخلاقی فعل" کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

اس کے بعد تین سال اور تین ماہ قید میں گزرے۔ والدہ رحیمہ بیگم یاد کرتی ہیں کہ بیٹا ہر اتوار جیل سے فون کر کے گھر والوں کی خیریت پوچھتا تھا، لیکن پھانسی سے پہلے کسی نے خاندان کو خبر تک نہ دی۔ ان کا الزام ہے کہ نذرالاسلام کو اپنا دفاع کرنے کا موقع بھی نہیں ملا۔

ڈیلی اسٹار نے واضح کیا ہے کہ نذرالاسلام پر عائد الزامات کی اصل نوعیت کیا تھی، اور آیا انہیں قانونی مدد یا صفائی کا موقع ملا، اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

"میں انصاف چاہتا ہوں"

عبدالبصیر کا غم دوہرا ہے۔ بیٹے کی جدائی کے ساتھ ساتھ قرض خواہ بھی دروازے پر کھڑے ہیں۔ "قرض دینے والے اب مجھ پر رقم لوٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں،" وہ کہتے ہیں۔ "میں چاہتا ہوں کہ میرے بیٹے کی میت گھر لائی جائے۔ اگر اسے بلاجواز پھانسی دی گئی ہے تو مجھے انصاف چاہیے۔"

گھر میں سوگ کی فضا گہری ہے۔ خاندان کے مطابق رحیمہ بیگم خبر ملنے کے بعد سے بار بار رو رو کر نڈھال ہو جاتی ہیں، جبکہ نذرالاسلام کی پھوپھی عابدہ بیگم یہ خبر سن کر بدھ کی رات دل کا دورہ پڑنے سے چل بسیں۔ خاندان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں اور میت سرکاری خرچ پر وطن لائی جائے۔ پڑوسیوں نے بھی خاندان کی مدد کی اپیل کی ہے۔

برہمن باڑیہ کے ڈپٹی کمشنر محمد ابو سعید نے اخبار کو بتایا کہ انتظامیہ کو اب تک کوئی ہدایت ملی ہے نہ خاندان نے کوئی درخواست دی ہے، تاہم میت واپس آئی تو قواعد کے مطابق ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

سعودی حکام کیا کہتے ہیں؟

سعودی وزارتِ داخلہ نے 14 اکتوبر کو سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے ذریعے ایک مختصر بیان جاری کیا، جس میں دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کے نام نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر بتائے گئے۔ بیان کے مطابق تفتیش کے بعد مقدمہ عدالت میں گیا، جس نے الزام ثابت ہونے پر جرم کی سنگینی اور وقت و مقام کی حرمت کی پامالی کو بنیاد بنا کر تعزیر کے تحت سزائے موت سنائی۔ فیصلہ برقرار رہا اور شاہی حکم کے بعد اس پر عمل کیا گیا۔

بیان میں نہ تو اس فعل کی تفصیل دی گئی، نہ مسجد کا نام بتایا گیا اور نہ ہی گرفتاری کی تاریخ۔

ڈھاکہ لاعلم کیوں رہا؟

اس واقعے نے دونوں ملکوں کے درمیان معلومات کے تبادلے پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ سعودی عرب میں بنگلہ دیشی مشن کے لیبر ویلفیئر ونگ نے پھانسی کے بعد وزارتِ خارجہ کو جو پیغام بھیجا، اس کے مطابق دونوں پر مکہ کی ایک مسجد میں زنا کا الزام تھا۔ ڈھاکہ کو پھانسیوں کا علم ان پر عمل درآمد کے بعد ہی ہوا۔

جدہ میں بنگلہ دیشی قونصلیٹ کا کہنا ہے کہ اسے پیشگی آگاہ نہیں کیا گیا۔ حکام کے مطابق سعودی عرب نے ستمبر میں تقریباً ڈھائی ہزار قیدیوں کی جو فہرست دی تھی اس میں دونوں کے نام تو موجود تھے، مگر سزائے موت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے اعتراف کیا کہ اس عمل میں "کہیں نہ کہیں کوتاہی" ہوئی ہے، اور بتایا کہ سعودی عرب سے وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔ ڈھاکہ میں سعودی سفیر سے بھی تفصیلات مانگی گئی ہیں۔ ڈیلی اسٹار کے مطابق بنگلہ دیشی حکومت نے ابھی تک سرکاری طور پر دونوں افراد کی شناخت کی تصدیق نہیں کی۔

بیرام پور کے اس گھر میں اب انتظار صرف ایک چیز کا ہے: بیٹے کی میت، اور ان سوالوں کے جواب جو ابھی تک ان کہے ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے ڈیلی اسٹار کی خاندان سے متعلق رپورٹ، 20 اکتوبر کی رپورٹ، سعودی بیان پر رپورٹ اور سفارتی پہلو پر رپورٹ دیکھیں۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-20-bangladeshi-executed-makkah-family-seeks-justice-body?lang=ur

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔