چند ہفتے پہلے تک یہ بحث چل رہی تھی کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جگہ ایک بالکل نیا ادارہ بنا دیا جائے۔ اب حکومت نے یہ راستہ چھوڑ دیا ہے، مگر ایف بی آر کے افسران کے لیے خبر اتنی اچھی نہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی حکومت نے پیر کو نیا ٹیکس ادارہ بنانے کا خیال ترک کر کے فیصلہ کیا کہ سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے کارکردگی نہ دکھانے والے افسران کو جبری ریٹائر کیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم: اصلاحات ہر حال میں جاری رہیں گی
اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایف بی آر میں اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ وزیرِ اعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ قوم کی توقعات کے مطابق کارکردگی بہتر بنانا ایف بی آر افسران کی ذمہ داری ہے اور اصلاحات کا عمل ہر صورت جاری رہے گا۔
انہوں نے محکمے میں بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت کی، البتہ یہ بھی کہا کہ جو عملہ اپنے رویے اور کارکردگی میں حقیقی بہتری دکھائے اسے سنبھلنے کا موقع ملنا چاہیے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس گیپ کا تخمینہ جی ڈی پی کے 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے افسران کے صوابدیدی اختیارات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایف بی آر کو اسی ہفتے انسانی وسائل کی تنظیمِ نو پر رپورٹ وزیرِ اعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سول سرونٹس ایکٹ میں کیا بدلے گا؟
اخبار کے مطابق سول سرونٹس ایکٹ میں مجوزہ ترامیم 2024 سے قومی اسمبلی میں زیرِ التوا ہیں اور حکومت نے اب ان کی منظوری تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ نئی شقوں 22 اے اور 22 بی کے تحت، جو تمام سروس گروپس پر لاگو ہوں گی، حکومت کسی بھی ڈویژن یا محکمے کی تنظیمِ نو کر کے آسامیاں ختم اور افسران کو فاضل قرار دے سکے گی۔
ایسے افسر کو سیورنس پیکج دیا جائے گا جسے قبول کرنا لازم ہوگا، اور وہ صرف رقم کی مالیت کے خلاف اپیل کر سکے گا۔ مسودے کے مطابق کوئی قانون، معاہدہ یا عدالتی فیصلہ حکومت کے اس اختیار کو محدود نہیں کر سکے گا۔
افسران کی تنظیم سے ٹکراؤ
یہ فیصلہ ایسے وقت آیا ہے جب نئے ادارے کی تجویز سامنے آنے پر ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن نے قلم چھوڑ ہڑتال کی دھمکی دی تھی، جو بعد میں واپس لے لی گئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکام نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے افسران کے اس رویے پر ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ حکومت کو بلیک میل کرنے والی کسی تنظیم کی گنجائش نہیں۔
بعد میں ایف بی آر کے بیان میں بتایا گیا کہ غیر مجاز پریس بیان اور کام روکنے کی کال کے معاملے پر ان لینڈ ریونیو سروس کے دو افسران، ایک گریڈ 20 اور ایک گریڈ 19، معطل کر دیے گئے ہیں، جبکہ گریڈ 20 کے دو مزید افسران کو تحقیقات کے لیے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز واپس بلا لیا گیا ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔
