پشاور: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں یکم جولائی سے نافذ وفاقی ٹیکسوں پر وفاقی حکومت اور مقامی تاجروں و عوام کے درمیان تنازع برقرار ہے، اور ایک سینئر عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ حکومت اپنا مؤقف حتمی کر چکی ہے۔
اہم نکات
- عہدیدار کے مطابق مزید ٹیکس چھوٹ یا نرمی کا امکان کم ہے
- بچت کھاتوں کے منافع پر کٹوتیاں شروع، بعض اکاؤنٹس میں 20 فیصد تک
- اگلے مرحلے میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے
حکومت کا مؤقف
عہدیدار کے مطابق فیصلہ ہو چکا ہے اور ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکسوں کے نفاذ میں اضافی رعایت کا امکان بہت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے خلاف مختلف کیٹیگریز کی بنیاد پر اگلے مرحلے میں کارروائی کی جا سکتی ہے، تاہم اس کی تفصیل اور شیڈول کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔
بچت کھاتوں سے کٹوتی
بینکنگ ذرائع کے مطابق تین ماہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد بچت کھاتوں کے منافع پر بھی ٹیکس کاٹا جا رہا ہے اور بعض اکاؤنٹس میں منافع سے 20 فیصد تک کٹوتی ہو چکی ہے۔ مختلف مدات میں مجموعی وصولیوں کی سرکاری تصدیق تاحال باقی ہے۔
احتجاج کیوں رکا؟
تاجروں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ٹیکسوں کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتالوں، ریلیوں اور سڑکیں بند کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ پروگرام غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔ اس کے باوجود علاقے میں بے چینی برقرار ہے۔
مقامی معیشت پر دباؤ
مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ طویل بدامنی، دہشت گردی، فوجی آپریشنز، زلزلوں اور سیلاب کے باعث علاقے کی معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ ان کے مطابق اضافی ٹیکس کاروبار، روزگار اور عام آدمی کی قوتِ خرید کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
