مواد پر جائیں

یمن: حوثی میزائل حملہ، 50 سے زائد اہلکار ہلاک

یمن کے صوبہ شبوہ میں عتق شہر کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کے تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں مقامی حکام کے مطابق 50 سے زائد اہلکار ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے ہیں۔

شائع شدہ

3 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

وہ نوجوان یمن کے مختلف صوبوں سے پولیس اور داخلی سکیورٹی فورسز میں بھرتی ہونے آئے تھے، مگر تربیت کا میدان ان کے لیے مقتل بن گیا۔ بی بی سی کے مطابق یمن کے وسطی صوبہ شبوہ میں پیر کو ایک تربیتی کیمپ پر حوثیوں کے میزائل حملے میں مقامی حکام کے بقول 50 سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 200 زخمی ہو گئے۔

سعودی حمایت یافتہ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ گروپ نے عتق شہر کے قریب العلم کیمپ پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جہاں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے نئے بھرتی ہونے والوں کو تربیت دی جا رہی تھی۔

ہسپتال بھر گئے

شبوہ کے میڈیا آفس نے ایک بیان میں کہا کہ میزائل شہید احمد السلیمانی تربیتی مرکز پر گرے، اور ابتدائی اندازے کے مطابق 53 افراد ہلاک اور 200 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں زمین پر کئی لاشیں بکھری دکھائی دیتی ہیں۔

صوبے کے نائب گورنر فہد الخلیفی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ شبوہ کے ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہو گئی ہے اور شدید زخمیوں کو پڑوسی صوبہ حضرموت اور عدن منتقل کرنا پڑا، جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔

"جنگی جرم" یا "سعودی اجتماع"؟

یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اسے "مجرمانہ حملہ" قرار دے کر "سخت جواب" دینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی کا کہنا تھا کہ داخلی سکیورٹی فورسز کا تربیتی مرکز کوئی فوجی ہدف نہیں تھا، اس لیے یہ حملہ جنگی جرم ہے۔ انہوں نے حوثیوں پر الزام لگایا کہ وہ محاذوں پر پسپائی چھپانے کے لیے جھوٹی میڈیا فتح گھڑ رہے ہیں۔

دوسری جانب حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے بیان میں دعویٰ کیا کہ میزائلوں کا نشانہ العلم کیمپ میں "سعودی دشمن" کا اجتماع تھا، جسے ان کے بقول سعودی افسران چلا رہے تھے۔ بی بی سی کے مطابق سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

جنگ پھر سے بھڑک اٹھی

یہ حملہ حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سب سے ہلاکت خیز واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اکتوبر کے آغاز میں حکومتی حامی فورسز نے سعودی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے مغربی یمن میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقے واپس لینے کے لیے بڑی کارروائی شروع کی تھی، اور آبنائے باب المندب کے سامنے بحیرۂ احمر کے ساحل کا وہ علاقہ دوبارہ حاصل کر لیا تھا جس پر حوثیوں نے ستمبر میں قبضہ کیا تھا۔ تعز، مأرب اور الجوف میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

حوثیوں نے جواب میں سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، توانائی تنصیبات اور فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اکتوبر کے آغاز سے اب تک سعودی ہوائی اڈوں پر حوثی حملوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ حوثیوں کے زیرِ انتظام میڈیا کا کہنا ہے کہ اتوار کو صعدہ کے ضلع سحار میں ایک گھر پر سعودی فضائی حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔

یمنی حکومت کی وزارتِ صحت کے مطابق 6 اگست سے اب تک ملک بھر میں کم از کم 1,282 افراد اس تنازع میں مارے جا چکے ہیں۔ 2014 سے جاری یہ خانہ جنگی، جو چار سال کی غیر رسمی جنگ بندی کے بعد جولائی میں پھر سلگ اٹھی، ایک بار پھر یمن کے عام گھرانوں سے ان کے بیٹے چھین رہی ہے۔

مزید تفصیل کے لیے بی بی سی کی رپورٹ دیکھیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-20-houthi-missile-strike-shabwa-yemen-camp?lang=ur