مواد پر جائیں

امریکا: سرکاری اداروں میں ڈیپ سیک پر پابندی

امریکی محکمۂ داخلی سلامتی نے سویلین سرکاری اداروں کے آئی ٹی نظاموں سے چینی اے آئی ماڈل ڈیپ سیک اور اس پر مبنی تمام خدمات ہٹانے اور ان کی خریداری روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

چینی مصنوعی ذہانت کا وہ ماڈل جس نے کچھ عرصہ پہلے سلیکون ویلی کو چونکا دیا تھا، اب امریکی سرکاری کمپیوٹرز سے باہر کیا جا رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق امریکی محکمۂ داخلی سلامتی (ڈی ایچ ایس) نے پیر کو شائع ہونے والے ایک نوٹس میں سویلین وفاقی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے آئی ٹی نظاموں سے ڈیپ سیک کی مصنوعات اور اس ماڈل پر بنی تیسرے فریق کی خدمات ہٹا دیں۔

نوٹس کے تحت سویلین سرکاری ادارے آئندہ نہ ڈیپ سیک کی مصنوعات خرید سکیں گے اور نہ ہی ایسی خدمات جو ڈیپ سیک کی مدد سے تیار کی گئی ہوں۔

واشنگٹن کو خدشہ کیا ہے؟

ڈی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ ڈیپ سیک کے ماڈلز کئی طرح کے خطرات رکھتے ہیں۔ محکمے کے مطابق اگر سرکاری ملازمین یا ٹھیکیدار اسے استعمال کریں تو حساس ڈیٹا چین منتقل ہونے کا خطرہ ہے، اور سرکاری اداروں میں اس کا استعمال امریکی شہریوں یا اداروں کے بارے میں قابلِ عمل انٹیلی جنس فراہم کر سکتا ہے۔ محکمے نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ خود ماڈلز میں مالویئر یا دیگر سکیورٹی کمزوریاں موجود ہو سکتی ہیں۔

پیر کو جولائی کا ایک میمو بھی منظرِ عام پر لایا گیا، جس میں ڈی ایچ ایس نے وفاقی اداروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ ڈیپ سیک سے لاحق ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر سرکاری ویب سائٹس پر آنے اور جانے والے ٹریفک کی نگرانی کریں۔ اخبار کے مطابق واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پابندیوں کا بڑھتا دائرہ

یہ قدم اچانک نہیں اٹھایا گیا۔ امریکی محکمۂ تجارت اور بحریہ سمیت کئی ادارے پہلے ہی سرکاری آلات پر ڈیپ سیک کے استعمال پر پابندی لگا چکے ہیں، جبکہ نیویارک، ٹینیسی اور ورجینیا سمیت متعدد ریاستیں بھی ایسے ہی اقدامات کر چکی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (ایف سی سی) 29 اکتوبر کو اس تجویز پر ووٹ دے گا کہ تمام چینی لیبارٹریوں کو امریکا کے لیے اسمارٹ فونز، کیمروں اور کمپیوٹرز جیسے الیکٹرانک آلات کی جانچ سے روک دیا جائے۔ گزشتہ سال امریکا کے 82 فیصد الیکٹرانک آلات کی جانچ چین میں ہوئی تھی۔

ایف سی سی گزشتہ دسمبر میں چینی ڈرونز اور صارفین کے لیے بنے چینی راؤٹرز کے تمام نئے ماڈلز کی درآمد پر پابندی لگا چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کی یہ کشمکش اب صرف تجارت تک محدود نہیں رہی، بلکہ ڈیٹا اور قومی سلامتی کی جنگ بن چکی ہے۔

مزید تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-20-us-dhs-bans-deepseek-federal-it-systems?lang=ur

مزید پڑھیں