مصنوعی ذہانت کی امریکی کمپنی اینتھروپک کی آمدنی ستمبر میں ختم ہونے والی سہ ماہی میں 45 فیصد اضافے کے ساتھ 16.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ بی بی سی اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کمپنی نے یہ اعداد و شمار بدھ کو سان فرانسسکو میں اپنے ہیڈکوارٹر میں ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے منعقدہ بریفنگ میں پیش کیے۔
روئٹرز نے بریفنگ میں شریک دو افراد کے حوالے سے بتایا کہ اینتھروپک کی آمدنی رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 4.7 ارب ڈالر اور دوسری سہ ماہی میں 11.6 ارب ڈالر تھی۔ کمپنی نے سرمایہ کاروں کو یہ بھی بتایا کہ تیسری سہ ماہی میں وہ ایڈجسٹڈ بنیاد پر منافع میں رہی۔ بی بی سی کے مطابق اینتھروپک کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
یہ بریفنگ کمپنی کے متوقع آئی پی او یعنی اسٹاک مارکیٹ میں پہلی بار حصص کی پیشکش سے قبل سرمایہ کاروں کو کمپنی سے متعارف کرانے کے لیے تھی۔ روئٹرز کے مطابق اینتھروپک دو ٹریلین ڈالر سے زائد کی مالیت کا ہدف رکھتی ہے، اور اس کی لسٹنگ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مؤخر ہو سکتی ہے۔
یہ خبر ایسے وقت آئی ہے جب اے آئی انفراسٹرکچر پر بھاری اخراجات کے خدشات کے باعث ٹیکنالوجی حصص دباؤ میں ہیں۔ بی بی سی کے مطابق بدھ کو امریکا میں اے ایم ڈی، اینویڈیا اور انٹیل سمیت چپ ساز کمپنیوں کے حصص گرے، جبکہ جمعرات کی صبح جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 7.6 فیصد اور جاپان کی سافٹ بینک کے حصص 9 فیصد نیچے آئے۔
اینتھروپک کی حریف کمپنی اوپن اے آئی بھی اسٹاک مارکیٹ میں آنے پر غور کر رہی ہے، تاہم اس کے سربراہ سیم آلٹمین ستمبر میں کہہ چکے ہیں کہ ان کی کمپنی اس سال آئی پی او نہیں لائے گی۔
