وار مانیٹر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے رامک کے قریب آدھی رات کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے ایک مسافر بس کو روک کر سات سے آٹھ مسافروں کو مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔ رات کے سناٹے میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے یہ سفر اچانک خوف میں بدل گیا۔
مقامی اطلاعات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حسن کوچ کی یہ بس تونسہ شریف سے راولپنڈی کی جانب رواں تھی کہ تھانہ پروا کی حدود میں انڈس ہائی وے پر مسلح افراد نے اسے روک لیا۔
شناختی کارڈ دیکھ کر مسافر الگ کیے گئے
رپورٹ کے مطابق حملہ آور بس کو ایک ویران مقام کی طرف لے گئے، جہاں مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے گئے اور چند افراد کو الگ کر کے ساتھ لے جایا گیا۔ مبینہ طور پر اغوا ہونے والوں میں تونسہ شریف سے تعلق رکھنے والا ایک پولیس ملازم اور چشمہ شوگر ملز ٹو سے وابستہ کارکن شامل ہیں۔
باقی مسافروں کو چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد بس نے اسلام آباد کی جانب اپنا سفر دوبارہ شروع کیا۔
ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی
لاپتا مسافروں کی شناخت اور ان کے ٹھکانے کے بارے میں تاحال کچھ واضح نہیں، اور کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ وار مانیٹر کا کہنا ہے کہ واقعے کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے، جبکہ پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور اس سے ملحقہ اضلاع میں حالیہ مہینوں کے دوران شاہراہوں پر ناکے لگا کر مسافروں اور سرکاری ملازمین کو روکنے کے واقعات بار بار رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
