ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جمعرات کا دن پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کے لیے بھاری ثابت ہوا۔ مشرق وسطیٰ سے آنے والی کشیدہ خبروں اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے بازار کا مزاج بدل دیا، اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 2,007 پوائنٹس یعنی 1.21 فیصد کی کمی کے ساتھ 163,924.32 پر بند ہوا۔ یوں انڈیکس 164 ہزار کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گیا۔
تیل، حوثی حملے اور درآمدی بل کا خوف
اخبار کے مطابق کاروبار کے دوران سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل مہنگا ہوا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کا کہنا تھا کہ ان واقعات نے خطے میں وسیع تر تنازع اور توانائی کی ترسیل میں طویل رکاوٹ کے خدشات کو ہوا دی ہے۔
پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے تیل کی قیمت میں ہر اضافہ براہ راست درآمدی بل اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ یہی خدشہ جمعرات کو سرمایہ کاروں کے فیصلوں پر حاوی رہا۔
کن حصص نے انڈیکس کو نیچے کھینچا؟
اینگرو ہولڈنگز، یو بی ایل، حب پاور، ایچ بی ایل، پی ٹی سی، لکی سیمنٹ، ایف ایف سی، اٹک ریفائنری، نیشنل بینک اور پی پی ایل سب سے زیادہ دباؤ میں رہے اور ان دس کمپنیوں نے مل کر انڈیکس کو 1,151 پوائنٹس نیچے دھکیلا۔
مندی کے باوجود کاروباری سرگرمی بہتر رہی۔ دن بھر میں 36 کروڑ 43 لاکھ حصص کا لین دین ہوا اور مجموعی مالیت 17.9 ارب روپے رہی۔ پاکستان ریفائنری کے 2 کروڑ 58 لاکھ حصص کے سودے ہوئے، جو کسی بھی کمپنی میں سب سے زیادہ تھے۔
بینکوں کے نتائج: ایک مثبت پہلو
اسی روز بڑے بینکوں نے سال 2026 کے پہلے نو ماہ کے نتائج جاری کیے۔ ایچ بی ایل نے فی حصص آمدنی 36.84 روپے (گزشتہ سال سے 5 فیصد زیادہ)، میزان بینک نے 41.02 روپے (6 فیصد زیادہ) اور ایم سی بی نے 37.26 روپے (تقریباً گزشتہ سال کے برابر) ظاہر کی۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق یہ نتائج اور منافع کی تقسیم توقعات کے مطابق رہی۔
آگے کیا؟
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور تیل کی قیمتوں کے باعث آنے والے دنوں میں بازار میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے، تاہم کمپنیوں کے مضبوط مالی نتائج اور پرکشش منافع منتخب حصص کو سہارا دے سکتے ہیں۔
