پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کا دن سرمایہ کاروں کے لیے کبھی امید اور کبھی گھبراہٹ کا رہا، لیکن آخرکار فروخت کا دباؤ غالب آ گیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن بھر مثبت اور منفی زون کے درمیان جھولتا رہا اور 814.44 پوائنٹس یا 0.49 فیصد کمی کے ساتھ 165,151.64 پوائنٹس پر بند ہوا۔ پچھلے روز انڈیکس 165,966.08 پر بند ہوا تھا۔
کاروبار کے دوران انڈیکس 166,425.56 کی بلند ترین اور 165,111.14 کی کم ترین سطح تک گیا، یعنی دن کے اختتام پر یہ تقریباً اپنی کم ترین سطح کے قریب تھا۔
صبح خریداری، شام کو فروخت
دن کا آغاز مثبت رہا اور آٹو، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے شیئرز میں خریداری دیکھی گئی۔ دوپہر تک انڈیکس معمولی اضافے پر تھا، مگر اس کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھتا گیا۔
کمی ہمہ گیر رہی، جس کی قیادت کمرشل بینکوں، ٹیکنالوجی، ریفائنریز اور بجلی کے شعبے نے کی۔ اٹک ریفائنری، سسٹمز، حبیب بینک، حب پاور اور فوجی فرٹیلائزر انڈیکس پر سب سے زیادہ بوجھ بنے۔
تیل کی قیمتیں اور خطے کی کشیدگی
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح، تقریباً 109 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔ اخبار کے مطابق سعودی تنصیبات پر حوثی حملوں اور خلیج میں جہازوں پر حملوں کی اطلاعات نے تاجروں کو جغرافیائی سیاسی خطرے کا پریمیم شامل کرنے پر مجبور کیا، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا۔
کے ٹریڈ سکیورٹیز نے اپنے جائزے میں کہا کہ مارکیٹ کے محدود دائرے میں رہنے کا امکان ہے اور قریبی مدت میں اس کی سمت عالمی تیل کی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور کمپنیوں کے مالی نتائج پر منحصر ہوگی۔
مجموعی طور پر 44 کروڑ 68 لاکھ شیئرز کا کاروبار ہوا جو پچھلے روز 37 کروڑ 9 لاکھ تھا۔ 499 کمپنیوں میں سے 128 کے شیئرز کی قیمت بڑھی، 324 کی گھٹی اور 47 کی برقرار رہی۔ سنرجیکو پی کے 4 کروڑ 66 لاکھ شیئرز کے ساتھ سرِ فہرست رہی اور اس کا شیئر 47 پیسے کمی سے 12.41 روپے پر بند ہوا۔
مزید تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔
