جیو نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں کیمرے سے لیس عینکوں اور دیگر جاسوسی آلات پر پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ ہدایت ان شکایات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں ایسے آلات کے ذریعے لوگوں کی غیر قانونی نگرانی کی نشاندہی کی گئی تھی۔
عینک، قلم اور گھڑی سب پابندی کی زد میں
چند روز قبل صوبائی حکومت نے جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے آلات پر پابندی کا فیصلہ کیا تھا، جن میں خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ آلات سے لیس عینکیں، قلم، گھڑیاں اور دیگر گیجٹس شامل ہیں۔ دی نیوز کے حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ ایسے آلات کے استعمال، خرید اور فروخت پر سخت قانونی کارروائی ہوگی، اور روزمرہ اشیا میں چھپے کیمروں کے غیر قانونی استعمال پر کڑی سزا دی جائے گی۔
خواتین اور بچوں کے تحفظ کا مقصد
ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ شہریوں کی پرائیویسی اور ذاتی معلومات کے تحفظ، خصوصاً خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ جاسوسی آلات کے ذریعے ہراسانی اور بلیک میلنگ کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
دنیا بھر میں بڑھتی تشویش
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اسمارٹ عینکوں کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق ان عینکوں سے تصاویر اور ویڈیوز بنانے، فون کال کرنے، ترجمہ کرنے اور اے آئی اسسٹنٹ سے بات کرنے جیسے کام کیے جا سکتے ہیں اور ان کی فروخت لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔
برطانیہ میں خواتین اور لڑکیوں کی خفیہ فلمبندی کی ویڈیوز آن لائن آنے کے بعد ان کی فروخت پر پابندی کے لیے پٹیشن سامنے آئی، جبکہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو نے اسکولوں میں ان عینکوں پر پابندی لگا دی اور فرانس کے ڈیٹا تحفظ کے ادارے سی این آئی ایل نے احتیاط برتنے پر زور دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق میٹا ان عینکوں میں چہرہ شناخت کرنے کی سہولت شامل کرنے پر بھی کام کر رہا ہے۔
