مریخ کے گرد گھومنے والا چھوٹا سا چاند فوبوس اب تک صرف دوربینوں اور خلائی تصویروں میں دیکھا گیا ہے۔ جاپان چاہتا ہے کہ اس کی مٹی انسان کے ہاتھ میں آئے۔ ایکسپریس ٹریبیون نے جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کے حوالے سے بتایا ہے کہ جاپان کی خلائی ایجنسی جاکسا نے منگل کو مریخ کے کسی چاند سے نمونے لانے کے دنیا کے پہلے مشن کو کامیابی سے روانہ کر دیا۔
مارشین مونز ایکسپلوریشن (ایم ایم ایکس) نامی خلائی جہاز ایچ تھری راکٹ سے کامیابی سے الگ ہو کر اپنے طے شدہ مدار میں پہنچ گیا۔ راکٹ نے جنوب مغربی جاپان کے تانیگاشیما اسپیس سینٹر سے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 41 منٹ پر اڑان بھری۔ جاکسا کے پروجیکٹ مینیجر ماکوتو اریتا کے مطابق خلائی جہاز "غیر معمولی درستی" کے ساتھ اپنے مدار میں پہنچا۔
فوبوس تک کا سفر
4,480 کلوگرام وزنی یہ خلائی جہاز مریخ کے دو چاندوں میں سے بڑے چاند فوبوس کی طرف جا رہا ہے اور اگست 2027 میں مریخ کے مدار میں داخل ہوگا۔ وہاں پہلے فرانس اور جرمنی کا تیار کردہ ایک روور فوبوس پر اترے گا، جس کے بعد جاپانی خلائی جہاز دو بار سطح پر اتر کر نمونے جمع کرے گا۔
اس کے بعد یہ مریخ کے دوسرے چاند ڈیموس کا مشاہدہ کرے گا اور نومبر 2030 میں مریخ کا مدار چھوڑ دے گا۔ نمونے جولائی 2031 میں زمین پر پہنچنے کی توقع ہے۔
دو سال کی تاخیر کے بعد اڑان
یہ لانچ اصل میں 2024 میں ہونا تھا، لیکن 2023 میں ایچ تھری راکٹ کی پہلی پرواز ناکام ہونے کے بعد اسے مؤخر کرنا پڑا۔ جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نے لانچ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس تاریخی مشن کی کامیابی کی امید ظاہر کی۔
بین الاقوامی شراکت سے چلنے والے اس مشن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ مریخ کے چاند کیسے وجود میں آئے، اور مستقبل میں سیاروں کی کھوج کے لیے نئی ٹیکنالوجی آزمانا ہے۔ اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا تو تقریباً پانچ سال بعد فوبوس کی مٹی زمین کی تجربہ گاہوں میں ہوگی۔
مزید تفصیل کے لیے ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ دیکھیں۔
