یونان ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو بچوں کو سوشل میڈیا کی دنیا سے دور رکھنے کے لیے قانون کا سہارا لے رہے ہیں۔ یونانی پارلیمنٹ نے جمعے کو ایک قانون منظور کیا جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر سکیں گے۔
وزیراعظم کریاکوس متسوتاکس نے اپریل میں اس پابندی کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے انہوں نے ٹک ٹاک کا انتخاب کیا، جو یونان کے نوجوانوں میں مقبول ترین پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو ’مشکل مگر ضروری‘ قرار دیا تھا۔ جمعرات کو شروع ہو کر جمعے تک جاری رہنے والی گرما گرم بحث کے بعد حکمران قدامت پسند جماعت نیو ڈیموکریسی نے اپنی اکثریت کے بل پر یہ بل منظور کرایا، جس کی کسی اور جماعت نے حمایت نہیں کی۔
اپوزیشن سوشلسٹ جماعت پاسوک ووٹنگ سے الگ رہی۔ اس نے ایک متبادل بل تجویز کیا تھا جس میں 13 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی اور 13 اور 14 سال کے بچوں کے لیے والدین کے کنٹرول کی بات کی گئی تھی۔ بائیں بازو اور قوم پرست جماعتوں نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
یکم جنوری سے نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت سوشل نیٹ ورکس کو صارفین کی عمر کی تصدیق کرنا ہوگی اور خلاف ورزی پر کمپنیوں کو سخت جرمانوں کا سامنا ہوگا۔ آسٹریلیا گزشتہ سال 16 سال سے کم عمر بچوں پر ایسی پابندی لگانے والا پہلا ملک بنا تھا، اور ذرائع کے مطابق اب تک 20 سے زائد ممالک اسی نوعیت کے قوانین منظور کر چکے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل نیٹ ورکس لت لگانے والے الگورتھمز کے ذریعے بچوں کو اسکرینوں سے چپکائے رکھتے ہیں اور بے تحاشا اسکرولنگ ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ دوسری جانب اظہارِ رائے کی آزادی کے حامی ایسی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور کئی ماہرین کو شک ہے کہ یہ عملی طور پر کتنی مؤثر ثابت ہوں گی۔
