وار مانیٹر کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں پانچ بچوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جس کے بعد غم سے نڈھال لواحقین نے ان کی لاشیں ایک فوجی چھاؤنی کے داخلی دروازے کے سامنے رکھ کر احتجاج شروع کر دیا۔
الزامات سوشل میڈیا پر
وار مانیٹر نے یہ اطلاع ایکس پر سرگرم اکاؤنٹ افغانستان گارڈین (@WakhanIntel) کی رپورٹ کے حوالے سے دی ہے۔ اس رپورٹ میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان الزامات کا ذکر ہے کہ بچوں کی ہلاکت میں پاکستانی فوجی اہلکار ملوث تھے۔
وار مانیٹر نے واضح کیا ہے کہ بچوں کی ہلاکت کے حالات، احتجاج کی تفصیلات اور فوجی اہلکاروں پر لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ رپورٹ میں فوج، پولیس یا ضلعی انتظامیہ کا کوئی مؤقف شامل نہیں، اور ہلاک ہونے والے بچوں کی شناخت یا واقعے کا مقام بھی نہیں بتایا گیا۔
کرم کا پس منظر
افغان سرحد سے متصل ضلع کرم گزشتہ برسوں میں قبائلی تنازعات، سڑکوں کی بندش اور بدامنی کے باعث شدید متاثر رہا ہے، اور یہاں کسی بھی واقعے پر عوامی ردعمل اکثر احتجاج کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
