جیو نیوز کے مطابق یورپی منڈی میں پاکستانی برآمدات کو ملنے والی ڈیوٹی فری سہولت ایک نئے امتحان کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یورپی یونین کا موجودہ جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) فریم ورک دسمبر 2026 میں ختم ہو رہا ہے، اور پاکستان کو یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونے والے نئے ضابطے کے تحت باقاعدہ طور پر نئی درخواست دینا ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت موجودہ مستفید ممالک کو یکم جنوری 2027 سے 31 دسمبر 2028 تک دو سال کی رعایتی مدت ملے گی۔ اس دوران موجودہ انتظام جاری رہے گا تاکہ یورپی کمیشن اور یورپی پارلیمنٹ نئے جی ایس پی پلس کو حتمی شکل دے سکیں۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا ضابطہ نافذ ہونے کے بعد کوئی بھی ملک، بشمول موجودہ مستفید ممالک، اس اسکیم کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
جیو نیوز نے دی نیوز کے حوالے سے اعلیٰ سرکاری ذرائع کا یہ مؤقف نقل کیا کہ اگلے جی ایس پی پلس کے لیے اہل ہونے کے لیے پاکستان کو بھرپور لابنگ کرنی ہوگی اور سخت تعمیلی تقاضے پورے کرنے کی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔ 2027 سے لاگو ہونے والے نظرثانی شدہ قواعد کے پیش نظر پاکستان کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متعلق کئی ترجیحات پر کام کرنا ہوگا۔
اسی دوران پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر رائمونداس کاروبلس نے کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی قیادت سے ملاقات کی اور جی ایس پی پلس اور مستقبل کے تجارتی تعلقات پر بات کی۔ سفیر نے زور دیا کہ اس سہولت کو جاری رکھنے کے لیے موجودہ بین الاقوامی وعدوں پر مؤثر عمل درآمد ضروری ہے۔
گزشتہ ماہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے موقع پر یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ملاقات میں جی ایس پی پلس کو پاکستان اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات کا مرکزی ستون قرار دیا تھا۔ ٹیکسٹائل سمیت پاکستان کی کئی بڑی برآمدات یورپی منڈی میں اسی رعایت کی بدولت مسابقت کرتی ہیں، اس لیے نئی درخواست کا عمل برآمد کنندگان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
