مواد پر جائیں

ایران: معاہدے کی ناکامی کا ذمہ دار امریکہ

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے عبوری معاہدے کی ناکامی کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرایا، تاہم دونوں فریقوں پر معاہدے کی طرف لوٹنے پر زور دیا۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے طے پانے والے عبوری معاہدے کے بکھر جانے کا الزام واشنگٹن پر عائد کیا ہے۔ سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقوں کو معاہدے کی طرف واپس آ کر اسے مکمل کرنا چاہیے۔

یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب خطے میں لڑائی دوبارہ چھڑنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ ایک اور "چھوٹا ایپک فیوری" کر سکتے ہیں، جو 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکی اسرائیلی جنگ کا کوڈ نام ہے۔

ذرائع کے مطابق پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ محدود حملے کا جواب بھی "کئی گنا بڑا" ہوگا۔ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ علی عبداللہی نے کہا کہ امریکی فوج کو کسی صورت خلیج میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور ٹرمپ یہ خواب قبر تک لے جائیں گے۔

حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ تہران اپنے دفاع کے لیے کسی کی اجازت کا انتظار نہیں کرے گا۔ "ہم امن کے لیے بات چیت سے بھاگتے نہیں اور ملک کے دفاع میں ہچکچاتے بھی نہیں،" انہوں نے لکھا۔

ایران کے دونوں بڑے حریف انتخابی دباؤ میں ہیں: اسرائیل میں منگل کو عام انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کہہ چکے ہیں کہ وہ ایرانی حکومت کے خاتمے کے عزم پر قائم ہیں، اور ایسے میں پڑوسی ملک پاکستان سمیت پورا خطہ آنے والے دنوں پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-25-iran-pezeshkian-blames-us-interim-deal-collapse?lang=ur