واشنگٹن: ایکسپریس ٹریبیون کی رائٹرز کے حوالے سے شائع رپورٹ کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایسے حملوں کے منصوبے تیار کر لیے ہیں جن میں ایران کی توانائی تنصیبات اور جوہری مقامات پر جی بی یو-43/بی 'میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ' بم استعمال کیا جا سکتا ہے، جسے عام طور پر 'مدر آف آل بمز' یعنی تمام بموں کی ماں کہا جاتا ہے۔
سی این این نے یہ خبر معاملے سے واقف امریکی حکام کے حوالے سے دی ہے اور اس کے مطابق یہ آپشن اسی صورت میں استعمال ہوگا اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ جنگی کارروائیوں کا حکم دیں۔ رائٹرز کے مطابق وہ اس رپورٹ کی فوری طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اسلحہ خانے کے اس سب سے بڑے غیر جوہری بم کا استعمال تنازع میں ایک بڑی شدت کی علامت ہوگا، تاہم فوجی منصوبہ بندی سے واقف حکام نے سی این این کو بتایا کہ واشنگٹن کے اسٹریٹجک مقاصد کے حصول میں اس کی افادیت پر سوالات اب بھی موجود ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بدھ کی رات ریاست مونٹانا میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران جنگ 'بہت جلد' ختم ہو جائے گی اور جنگ ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتیں تیزی سے گریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔
مونٹانا میں ایک ریلی سے خطاب میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ امریکا ایران کے کن حکام سے مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایران کے تمام 159 بحری جہاز ڈبو دیے گئے اور اس کے لڑاکا طیارے ناکارہ ہو چکے ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کے قریب پروجیکٹائل لگنے کے الگ الگ واقعات کے بعد ایک کنٹینر بردار اور ایک بلک کیریئر جہاز ڈوب چکے ہیں، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور نئی پابندیوں کے جواب میں حملے تیز کر رہا ہے۔
