قطر کے ثالثوں کا ایک وفد اتوار کو تہران پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ دورہ امریکہ کی ہم آہنگی سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے، اور ایک ایسے وقت ہو رہا ہے جب اپریل کی جنگ بندی کے مہینوں بعد ایران پر نئے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی دھمکیاں بڑھ رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اس روز کسی حملے کا امکان رد کر دیا۔ پہلے انہوں نے سوال کے جواب میں پوچھا "کیا میں آپ کو بتاؤں گا؟" اور پھر کہا: "جواب ہے نہیں، آج کوئی حملہ نہیں ہو گا۔" لیکن ایک انٹرویو میں انہوں نے فوجی کارروائی کا دروازہ کھلا رکھتے ہوئے کہا: "اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں ان سے معاہدہ کروں یا انہیں ختم کر دوں؟" ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز اب امریکہ کے کنٹرول میں ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ نئی جنگ سے ایران کی پالیسی نہیں بدلے گی۔ "جنگ ہو یا نہ ہو، ہماری پالیسیاں وہی رہیں گی،" انہوں نے کہا۔ ان کے بقول امریکہ کے ساتھ پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں کے ذریعے بات چیت بغیر تعطل کے جاری ہے، اور آبنائے ہرمز سے جہاز رانی اور اس کا انتظام اب پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
یاد رہے کہ جون میں ایران اور امریکہ نے پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا جو مستقل تصفیے کا راستہ طے کرتی تھی، مگر بعد میں دونوں ایک دوسرے پر خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے اور معاہدہ بکھر گیا۔ تہران اب اس معاہدے کی طرف واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
اسی دوران ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سردیوں میں قلت کے خدشے کے پیشِ نظر گیس کی کھپت کم از کم 10 فیصد کم کرنے کی ملک گیر مہم کی اپیل کی ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے عراقی کردستان میں ایک کرد اپوزیشن گروپ کے ٹھکانوں کو ڈرون سے نشانہ بھی بنایا، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے منگل کے انتخابات سے پہلے ایران اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ "ہمیں مت آزمائیں۔"
