ایران کی انقلابی عدالت نے عالمی شہرت یافتہ فلم ساز جعفر پناہی کو پانچ سال قید اور ان کے تمام اثاثے ضبط کرنے کی سزا سنائی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اطلاع بدھ کو ان کے وکیل کے حوالے سے سامنے آئی، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ان پر کیا الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عدالت نے جعفر پناہی کے دو سال تک ملک سے باہر جانے اور سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی سرگرمی پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ ان کے وکیل مصطفیٰ نیلی سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔
جعفر پناہی کی فلم "اٹ واز جسٹ این ایکسیڈنٹ" نے 2025 کے کانز فلم فیسٹیول میں سب سے بڑا اعزاز پام ڈی اور جیتا تھا۔ وہ اپنی فلموں کی وجہ سے ماضی میں بھی کئی بار گرفتار ہو چکے ہیں۔ 2025 میں انہیں نظام کے خلاف پروپیگنڈا کے الزام میں ان کی غیر موجودگی میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اس کے باوجود وہ مارچ میں ایران واپس لوٹ آئے تھے۔
ایرانی سینما کے سب سے نمایاں ناموں میں شمار ہونے والے پناہی کی اس نئی سزا پر فلمی دنیا کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی۔
