ایران نے پیر کو کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ بندی کے لیے گزشتہ ماہ پیش کیا گیا اس کا سات نکاتی منصوبہ بدستور برقرار ہے، لیکن اب اسے مختصر کر دیا گیا ہے اور شرائط پوری ہونے پر اس پر ایک ہفتے کے بجائے دو دن میں عمل کیا جا سکتا ہے۔ منصوبے میں آبنائے ہرمز کو جلد کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی شامل ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر ایران کے مطالبات مان لیے جائیں تو مختصر وقت میں آبنائے ہرمز میں سلامتی بھی بحال ہو سکتی ہے اور مذاکرات کا عمل بھی شروع ہو سکتا ہے، تاہم سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ امریکہ اس عمل کو کس طرح آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، پابندیوں کی منسوخی، حملے بند ہونے کی ضمانت اور لبنان سمیت پورے خطے میں مکمل جنگ بندی شامل ہیں۔ بقائی نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ تہران نے اپنے مطالبات میں کوئی تبدیلی کی ہے یا واشنگٹن نے منصوبہ قبول کر لیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حکومت کو امریکہ سے بات چیت تیز کرنے کے اختیارات دے دیے ہیں۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکمانستان کے دارالحکومت عشق آباد میں کہا کہ ایران سفارت کاری اور فوجی تصادم دونوں کے لیے تیار ہے، اور شرائط قبول نہ ہوئیں تو موجودہ صورت حال برقرار رہے گی اور ایران نہیں جھکے گا۔ قطر اور پاکستان فریقین کے درمیان بالواسطہ بات چیت میں ثالثی کر رہے ہیں۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں، تاہم وہ کئی بار اشارہ دے چکے ہیں کہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔ اتوار کو انہوں نے کہا کہ یہ جنگ کسی نہ کسی طرح بہت جلد ختم ہو جائے گی: یا تو ایران معاہدہ کرے گا یا امریکہ اسے ختم کر دے گا۔
