فرانس افغانستان کی طالبان انتظامیہ (امارتِ اسلامیہ) کے ساتھ ان افغان شہریوں کی واپسی کے لیے تکنیکی مذاکرات کر رہا ہے جو بغیر قانونی امیگریشن حیثیت کے فرانس میں مقیم ہیں۔ فرانسیسی وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے پیر کو پارلیمان میں اس کی تصدیق کی۔
نونیز نے قانون سازوں کو بتایا، ’ہم غیر قانونی حیثیت رکھنے والے کچھ افغانوں کو واپس بھیجنے کی سہولت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ تکنیکی بات چیت ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک بھی اسی طرح کے انتظامات پر کام کر رہے ہیں۔ فرانسیسی وزیر کے مطابق بعض افغان شہری امنِ عامہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور ان کی ملک بدری حکومت کی ترجیح ہے۔
ذرائع کے مطابق فرانس نے اکتوبر کے اوائل میں ہی اس سلسلے میں کابل سے رابطے شروع کر دیے تھے۔ اگرچہ فرانس طالبان انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں رکھتا، تاہم وہ جرمنی، بیلجیم اور سویڈن سمیت یورپی یونین کے تقریباً 20 ممالک کے ساتھ افغان شہریوں، خصوصاً سزا یافتہ افراد، کی واپسی تیز کرنے کی کوششوں میں شامل ہے۔
ان مذاکرات پر فرانس کے بعض قانون سازوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کی ہے۔ ماحولیاتی جماعت کی رکنِ پارلیمان لیا بلاژ المریکی نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ خواتین اور لڑکیوں پر پابندیوں کے باوجود طالبان انتظامیہ سے تعلقات معمول پر لانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
جون میں برسلز میں طالبان وفد اور یورپی یونین کے 15 ممالک کے نمائندوں کے درمیان غیر قانونی نقل مکانی اور ملک بدری پر ہونے والی ملاقات پر بھی تنقید ہوئی تھی، جبکہ ستمبر میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے جبری واپسیاں روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔
