افغانستان میں انسانی امداد کا نظام شدید مالی دباؤ میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (اوچا) کی تازہ نگرانی رپورٹ کے مطابق 2026 کے لیے درکار 1.71 ارب ڈالر میں سے 31 اگست تک صرف 51 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی نئی فنڈنگ رپورٹ ہوئی، یعنی منصوبے کا 70 فیصد حصہ غیر فنڈ شدہ رہا اور تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی کمی ہے۔ ملک میں 2 کروڑ 19 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 31 اگست کے دوران امدادی اداروں نے 93 لاکھ افراد تک کم از کم ایک قسم کی مدد پہنچائی، جو ہدف کے 1 کروڑ 75 لاکھ افراد کا 53 فیصد ہے۔ ان میں 31 لاکھ خواتین، 17 لاکھ مرد، 23 لاکھ لڑکیاں اور 21 لاکھ لڑکے شامل تھے۔ تاہم ایک سے زیادہ ضرورتیں پوری کرنے والی جامع امداد صرف 14 لاکھ افراد کو ملی، جبکہ ہدف 52 لاکھ تھا۔
خوراک کی امداد اب بھی سب سے بڑا حصہ ہے: 51 لاکھ افراد کو غذائی مدد ملی، مگر خوراک اور زراعت کا شعبہ 65 کروڑ 11 لاکھ ڈالر کی ضرورت کے مقابلے میں صرف تقریباً 10 کروڑ 59 لاکھ ڈالر، یعنی 16 فیصد، حاصل کر سکا۔ اس شعبے کے مطابق 1 کروڑ 74 لاکھ افراد غذائی امداد کے محتاج ہیں۔
صحت کے شعبے کو درکار 19 کروڑ ڈالر میں سے تقریباً 38 فیصد ملا اور اگست تک تقریباً 40 لاکھ افراد کو طبی مدد دی گئی، جبکہ 1 کروڑ 44 لاکھ افراد کو اس کی ضرورت ہے۔ غذائیت کا شعبہ صرف 17 فیصد فنڈ ہوا، حالانکہ 75 لاکھ افراد کو غذائیت کی امداد درکار ہے۔ تعلیم کے شعبے میں 71 لاکھ بچوں کو مدد کی ضرورت ہے مگر منصوبے کے تحت ہدف بنائے گئے تقریباً 6 لاکھ 14 ہزار بچوں میں سے صرف 2 لاکھ 15 ہزار تک رسائی ہو سکی۔
