مواد پر جائیں

ہلمند: بے سہارا خواتین کام سے بھی محروم

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں گھر کی کفالت کرنے والی بعض خواتین کا کہنا ہے کہ طالبان انہیں نہ کام کرنے دیتے ہیں اور نہ بھیک مانگنے، جس سے ان کے بچے بھوک کا شکار ہیں۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

45 سالہ حسنیٰ لشکرگاہ میں رہتی ہیں اور شوہر کے قتل کے بعد چار یتیم بچوں کی واحد کفیل ہیں۔ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے انہوں نے شہر میں ایک چلتا پھرتا ٹھیلا لگایا، مگر ان کے بقول طالبان نے انہیں یہ کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی۔

ذرائع کے مطابق ہلمند میں گھر کی سربراہی کرنے والی کئی خواتین نے منگل کو بتایا کہ طالبان نہ انہیں روزگار کمانے دیتے ہیں اور نہ ہی بھیک مانگنے دیتے ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے بھوکے ہیں اور انہیں ان کی بنیادی ضروریات اور مستقبل کی فکر کھائے جا رہی ہے۔

حسنیٰ کے مطابق طالبان نے بھکاریوں کو جمع کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنا رکھی ہے، جس کے ارکان شہر میں کسی کو بھیک مانگنے نہیں دیتے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ارکان روزانہ شہر میں گشت کرتے ہیں اور خواتین کو معاشی سرگرمیوں سے بھی روکتے ہیں۔ طالبان حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

طالبان نے تقریباً تین سال قبل افغانستان میں بھیک مانگنے پر پابندی عائد کی تھی، اور ساتھ ہی خواتین کے روزگار پر وسیع پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں، جن کے باعث خواتین کی معاشی اور سماجی شرکت بہت محدود ہو چکی ہے۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-11-04-helmand-women-say-barred-work-begging?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔