45 سالہ حسنیٰ لشکرگاہ میں رہتی ہیں اور شوہر کے قتل کے بعد چار یتیم بچوں کی واحد کفیل ہیں۔ بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے انہوں نے شہر میں ایک چلتا پھرتا ٹھیلا لگایا، مگر ان کے بقول طالبان نے انہیں یہ کام جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی۔
ذرائع کے مطابق ہلمند میں گھر کی سربراہی کرنے والی کئی خواتین نے منگل کو بتایا کہ طالبان نہ انہیں روزگار کمانے دیتے ہیں اور نہ ہی بھیک مانگنے دیتے ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے بچے بھوکے ہیں اور انہیں ان کی بنیادی ضروریات اور مستقبل کی فکر کھائے جا رہی ہے۔
حسنیٰ کے مطابق طالبان نے بھکاریوں کو جمع کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنا رکھی ہے، جس کے ارکان شہر میں کسی کو بھیک مانگنے نہیں دیتے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ارکان روزانہ شہر میں گشت کرتے ہیں اور خواتین کو معاشی سرگرمیوں سے بھی روکتے ہیں۔ طالبان حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
طالبان نے تقریباً تین سال قبل افغانستان میں بھیک مانگنے پر پابندی عائد کی تھی، اور ساتھ ہی خواتین کے روزگار پر وسیع پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں، جن کے باعث خواتین کی معاشی اور سماجی شرکت بہت محدود ہو چکی ہے۔
