کابل میں وزارت معادن و پٹرولیم نے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹ اونڈ کمپنیز اور عزیزی گروپ آف کمپنیز کے ساتھ شمالی جوزجان میں قدرتی گیس نکالنے، بغلان میں کوئلہ نکالنے اور ان سے بجلی پیدا کرنے کے معاہدے کر لیے ہیں۔ نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور کے دفتر کے بیان کے مطابق دونوں منصوبے ملکی بجلی کی پیداوار بڑھانے، توانائی کی سلامتی مضبوط کرنے اور اقتصادی ترقی کی حمایت کے لیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ہر منصوبے سے تقریباً ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف ہے اور معاہدے تیس سال تک نافذ رہیں گے۔ دونوں منصوبوں سے لگ بھگ پانچ ہزار براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی گئی۔
معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر آخوند نے عزیزی گروپ کی سرمایہ کاری کو اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ منصوبوں پر عمل درآمد اقتصادی ترقی اور بے روزگاری کم کرنے کا راستہ کھولے گا۔ عزیزی گروپ کے چیف ایگزیکٹو میرویس عزیزی نے کہا کہ کمپنی گیس، کوئلہ اور بجلی سمیت متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور غزنی و کابل میں شمسی بجلی کے منصوبے پہلے سے جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق جنگلِ کلان گیس منصوبے پر تقریباً دو سو پچھتر ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جبکہ کوئلے کے معاہدے کی الگ مالی مالیت سرکاری بیان میں واضح نہیں کی گئی۔
