امریکا نے سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان کا ویزا ابھی جاری نہیں کیا، جبکہ ان کی اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت متوقع ہے۔
رائٹرز نے 22 ستمبر کو معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ویزے کا معاملہ سوڈان میں مجوزہ جنگ بندی کے منصوبے پر اختلافات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں سوڈان کے سفیر الحارث ادریس الحارث نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریش کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ویزا جاری نہیں ہوا۔ خط میں اشارہ دیا گیا کہ اس معاملے کا تعلق امریکا کی حمایت یافتہ 90 روزہ جنگ بندی کی تجویز سے ہو سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق البرہان اور سوڈانی فوج نے جنگ بندی کی اس تجویز پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ سوڈانی فوج اور نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان اپریل 2023 سے جنگ جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹریٹ نے ویزے کا معاملہ امریکی حکام کے سامنے اٹھایا ہے، جبکہ گوتیریش نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی۔
امریکی حکومت نے ویزا مسترد کرنے کا کوئی باضابطہ عوامی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی یہ کہا ہے کہ ویزا جاری کرنا جنگ بندی کی تجویز قبول کرنے سے مشروط ہے۔
البرہان اس سے پہلے بھی اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں سوڈان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ جاری جنگ نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا ہے اور ملک میں شدید انسانی بحران پیدا کیا ہے۔


