مواد پر جائیں
خبر

ایران نے ٹرمپ کی تباہی کی دھمکی کو مایوسی کی علامت قرار دیا، بقائی نے مذاکرات پر زور دیا

ایرانی حکام نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی مسترد کردی۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطرات کے مقابلے میں بات چیت مؤثر راستہ ہے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے جنگ، بحری ناکہ بندی اور پابندیوں سے متعلق تہران کی شرائط دہرائیں۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اقوامِ متحدہ میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے اسے طاقت کے بجائے مایوسی کی علامت قرار دیا ہے، جبکہ تہران نے اسی وقت سفارتی راستہ کھلا رکھنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ کی دھمکیاں ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کے تعطل اور مایوسی کی عکاسی کرتی ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مزید حملوں کی صورت میں ایران سخت جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان ایرانی ریاستی مؤقف ہے اور اس میں کیے گئے عسکری دعوے آزادانہ طور پر ثابت شدہ پیش گوئی نہیں ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطرات اور کشیدگی کے مقابلے میں بات چیت مؤثر ترین راستہ ہے۔ بقائی نے یہ بھی بتایا کہ قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکا کو ایران کی شرائط پہنچا دی گئی ہیں۔ ان شرائط میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، امریکی بحری ناکہ بندی اور اقتصادی دباؤ کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی شامل ہے۔

بقائی کے مطابق آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی کے کسی نئے انتظام میں ایران اور عمان کا کردار مرکزی ہوگا۔ تہران نے اشارہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق نئی ترتیب مذاکرات کا حصہ بن سکتی ہے، لیکن ابھی کسی حتمی معاہدے، مکمل دوبارہ کھلنے یا نئی مستقل حیثیت کا اعلان نہیں ہوا۔

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان نیویارک میں ثالثوں کے ذریعے رابطے دوبارہ شروع ہوئے ہیں۔ دونوں فریق ایک طرف سخت عوامی بیانات دے رہے ہیں اور دوسری طرف مذاکراتی راستہ برقرار رکھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-iran-trump-annihilate-response-dialogue-hormuz-2026-09-23?lang=ur

ماخذ: https://www.aljazeera.com/news/2026/9/23/annihilate-vs-crushing-attacks-why-iran-us-up-rhetoric-amid-talks