امریکا اور ایران کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر طویل سفارتی بات چیت ہوئی ہے، تاہم اس رابطے کی نوعیت کے بارے میں امریکی اور ایرانی بیانات میں فرق موجود ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوئی اور ثالث دن بھر امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان آتے جاتے رہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں کہا کہ امریکی نمائندوں نے ایرانی حکام کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے کی بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وٹکوف کے درمیان رابطے کی بھی تصدیق کی، جس سے کئی ہفتوں بعد دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی رابطے کی نشاندہی ہوئی۔ ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثوں کے اجرا اور جنگ کے خاتمے سمیت شرائط پیش کی ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ امریکی فوجی دباؤ کم ہونے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز سات دن کے اندر کھولی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا اور مزید بات چیت کی توقع ظاہر کی، لیکن ابھی کسی حتمی امن معاہدے، جنگ بندی یا آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے فیصلے کا اعلان نہیں ہوا۔
خبر
امریکا اور ایران کے درمیان نیویارک میں طویل مذاکرات، براہِ راست رابطے پر متضاد تفصیلات
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان کئی گھنٹے بات چیت ہوئی۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ ثالث دونوں وفود کے درمیان پیغامات لے کر جاتے رہے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا نے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وٹکوف کے رابطے کی تصدیق کی۔
Margalla Newsدنیا
امریکا اور ایران کے درمیان نیویارک میں طویل مذاکرات، براہِ راست رابطے پر متضاد تفصیلات
پاکستان • افغانستان • خطہ
ادارتی شفافیت
خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-us-iran-unga-mediated-talks-hormuz-2026-09-23?lang=ur
ماخذ: https://www.aljazeera.com/news/2026/9/23/us-iran-hold-mediated-unga-talks-on-ending-war-opening-strait-of-hormuz
