روسی صدر ولادیمیر پوتن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سے جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
Reuters کے مطابق دونوں رہنماؤں نے 22 ستمبر کو ٹیلی فون پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ کریملن نے کہا کہ دونوں نے سیاسی اور سفارتی حل کو موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا۔
کریملن کے مطابق پوتن اور محمد بن سلمان نے یمن میں بگڑتی فوجی اور سیاسی صورتحال کے تناظر میں جنگی کارروائیاں جلد روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں اہم بحری راستوں پر علاقائی کشیدگی کے باعث آمدورفت متاثر ہے اور سعودی عرب کو تیل کی برآمدات کے لیے متبادل routes پر زیادہ انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔
یہ دونوں رہنماؤں کا سفارتی مؤقف ہے؛ اسے کسی نئے maritime-security agreement، ceasefire یا enforcement mechanism کی تشکیل کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
جہاز رانی کی عملی صورتحال میں بہتری سکیورٹی حالات، shipping operators کے فیصلوں اور وسیع تر علاقائی سفارت کاری پر منحصر ہوگی۔


