اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل وہ ادارہ ہے جس پر عالمی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کی بنیادی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ دنیا میں جنگ، سرحدی تنازع، پابندیوں، امن فوج یا بڑے سکیورٹی بحران کی خبر آئے تو اکثر اسی کونسل کا نام سامنے آتا ہے۔
سلامتی کونسل کے کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں۔ پانچ مستقل ارکان چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا ہیں۔ باقی دس ارکان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دو سال کے لیے منتخب کرتی ہے۔
کونسل کسی تنازع پر بحث کر سکتی ہے، جنگ بندی کا مطالبہ کر سکتی ہے، پابندیاں لگا سکتی ہے، امن مشن قائم کر سکتی ہے، نگرانی کے نظام بنا سکتی ہے اور مخصوص حالات میں طاقت کے استعمال کی اجازت بھی دے سکتی ہے۔
اس کونسل کی سب سے مشہور اور متنازع خصوصیت ویٹو ہے۔ اہم نوعیت کی قرارداد پر پانچ مستقل ارکان میں سے کوئی ایک منفی ووٹ دے تو قرارداد منظور نہیں ہو سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی تجویز کے حق میں بہت سے ممالک ہوں، پھر بھی ایک مستقل رکن اسے روک سکتا ہے۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سلامتی کونسل کا ہر اجلاس لازماً کوئی لازمی فیصلہ پیدا نہیں کرتا۔ بعض اجلاس صرف بریفنگ، بحث یا سیاسی مؤقف کے اظہار کے لیے ہوتے ہیں۔ کبھی صدارتی بیان جاری ہوتا ہے، کبھی قرارداد منظور ہوتی ہے، اور کبھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
اگر کونسل اقوام متحدہ کے منشور کے تحت ایسا فیصلہ منظور کرے جو رکن ممالک پر لازم ہو تو تمام رکن ممالک اس پر عمل کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ یہی بات اسے اقوام متحدہ کے کئی دوسرے اداروں سے مختلف بناتی ہے، جہاں اکثر قراردادیں سفارش کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ویٹو کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ بڑی طاقتوں کے اختلاف کی صورت میں کونسل مفلوج ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب کسی مستقل رکن یا اس کے قریبی اتحادی کا مفاد براہِ راست تنازع سے جڑا ہو۔
سلامتی کونسل کی خبر پڑھتے وقت چار چیزیں الگ رکھنا مفید ہے: اجلاس، بیان، قرارداد اور عملی نفاذ۔ یہ چاروں ایک چیز نہیں۔ کسی کمپنی، سفارت کار یا ماہر کی بریفنگ اہم ہو سکتی ہے، مگر وہ خود کوئی نیا بین الاقوامی قانون نہیں بناتی۔ اصل اثر اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ کونسل آخرکار کیا منظور کرتی ہے۔


