پاکستان نے جمعرات 24 ستمبر کو افغانستان کے اندر 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون حملے کرنے کی تصدیق کی ہے، جس سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی میں ایک نئی شدت آئی ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ کارروائی ان مقامات کے خلاف کی گئی جنہیں اسلام آباد کے مطابق ایک روز قبل پاکستان کی طرف بھیجے گئے ڈرونز کو لانچ یا ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ پاکستان کا یہ دعویٰ آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکا۔
افغانستان میں مقامی اور میڈیا ذرائع نے قندھار، خوست اور پکتیا میں حملوں کی اطلاع دی ہے۔ امو ٹی وی کے مطابق خوست میں طالبان کے صوبائی ترجمان مستغفر گربز نے گربز، اسماعیل خیل، مندوزئی اور صوبائی مرکز کے قریب علاقوں میں حملوں کی تصدیق کی اور کہا کہ وہاں جانی نقصان نہیں ہوا۔ قندھار شہر کے نویں ضلع میں بھی حملے کی اطلاع دی گئی۔ پکتیا میں مقامی ذرائع نے طالبان کی 203 منصوری کور کے ایک حصے کو نشانہ بنائے جانے کی بات کہی۔
پاکستانی وزیر اطلاعات نے کارروائی کو محدود، متناسب اور فوجی اہداف تک محدود قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کے تحت حملے کیے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ بدھ کو افغانستان کی جانب سے آٹھ ڈرون پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے تھے اور انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے روک لیا گیا۔ افغان حکام اس سے قبل اپنی سرزمین کو دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال ہونے دینے کے پاکستانی الزامات مسترد کرتے رہے ہیں۔
پژواک افغان نیوز نے بھی خوست اور قندھار میں پاکستانی فضائی حملوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی۔ یہ حملے چند روز قبل کنڑ اور پکتیکا میں پاکستانی فضائی کارروائی کے بعد ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے کنڑ میں اس پہلے حملے میں ایک ہی خاندان کے تین شہریوں کی ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔
تازہ حملوں میں قندھار، خوست اور پکتیا کے تمام اہداف، ممکنہ نقصان اور پاکستان کے بیان کردہ 10 مقامات کی مکمل فہرست ابھی آزادانہ طور پر واضح نہیں ہوئی۔ مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہلاکتوں، نقصان اور اہداف کی مکمل تصویر واضح ہو سکے گی۔
