پاکستان نے جمعرات 24 ستمبر کو اعلان کیا ہے کہ اس نے افغانستان کے اندر 10 مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر مبینہ ڈرون اور گولہ باری کے جواب میں کی گئی۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے مقامات افغانستان کی سرزمین سے حملوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
پاکستانی حکام نے بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی جانب سے آٹھ ڈرون بھیجے گئے اور سرحدی چوکیوں پر گولہ باری کی گئی۔ کابل نے اس سے پہلے پاکستانی چوکیوں پر افغان فورسز کے حملے کے الزام کی تردید کی تھی۔ تازہ فضائی کارروائی کے اعلان کے بعد افغان حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی نیا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تازہ حملوں میں جانی یا مالی نقصان کی آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تفصیلات ابھی دستیاب نہیں ہیں۔ پاکستان کے 10 مقامات کو نشانہ بنانے اور ان کے مبینہ استعمال سے متعلق دعوے فی الحال پاکستانی حکومت سے منسوب ہیں اور ان کی آزاد ذرائع سے فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ پیش رفت پاک–افغان کشیدگی میں ایک نئی اور اہم شدت ہے۔ 21 ستمبر کو بھی پاکستان نے افغانستان کے اندر فضائی کارروائیاں کی تھیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن یوناما نے کنڑ میں اس کارروائی کے بعد کم از کم تین شہریوں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی، جبکہ پاکستان نے کہا تھا کہ اس نے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
24 ستمبر کی تازہ کارروائی ایسے وقت ہوئی ہے جب سرحدی علاقوں میں فائرنگ، مبینہ ڈرون واقعات اور باہمی الزامات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ تازہ حملوں کے درست مقامات، ممکنہ جانی نقصان اور افغان حکومت کے باضابطہ ردعمل سے متعلق مزید تصدیق کا انتظار ہے۔
