پاکستانی فوج نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی ملکی کوششوں کے بارے میں محتاط امید ظاہر کی ہے۔ شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 30 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی میں روئٹرز سے گفتگو کی۔ انہوں نے کسی معاہدے یا مذاکرات کے نئے شیڈول کا اعلان نہیں کیا۔
فوجی ترجمان نے کیا کہا؟
احمد شریف چوہدری نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اکتوبر کے دوران تہران کے دو دوروں کو محتاط امید کی بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشیدگی کم ہونے کے مخالف عناصر سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرسکتے ہیں، لیکن کسی کا نام نہیں لیا۔
روئٹرز کے مطابق عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران میں سعودی عرب اور ترکی کے حکام بھی شامل تھے۔ گفتگو کی تفصیلات اور واشنگٹن کی ممکنہ حمایت کے بارے میں سوال پر ترجمان نے مزید معلومات دینے سے گریز کیا۔ لہٰذا ان ملاقاتوں کو ایران اور امریکا کے درمیان کسی طے شدہ معاہدے کا ثبوت نہیں کہا جاسکتا۔
کیا علاقائی دفاعی تعاون میں تبدیلی آسکتی ہے؟
ترجمان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی انتظام کی شرائط دوسرے ملکوں، بشمول ایران، کی شمولیت کو خودبخود نہیں روکتیں۔ تاہم کسی نئے رکن سے متعلق فیصلہ موجودہ فریقوں کی سیاسی قیادت کے اختیار میں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع سے متعلق اپنے عزم پر قائم ہے، لیکن یمن کے اندرونی تنازعے کا فریق نہیں۔ فوجی تعیناتی کے فیصلے حالات اور سیاسی ہدایات کے مطابق ہوں گے۔
اگلا مرحلہ کیا ہے؟
پاکستان کی رائے کے مطابق ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، مگر مذکورہ رپورٹ میں کسی فریق کی جانب سے حتمی سفارتی سمجھوتہ سامنے نہیں آیا۔ پیش رفت کی تصدیق متعلقہ حکومتوں کے براہِ راست بیانات اور اقدامات سے ہونی چاہیے۔
