خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے متعدد علاقوں میں 8 اکتوبر کو موبائل فون اور سیلولر انٹرنیٹ کی خدمات متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ڈان کے مطابق خدمات کی بندش بدھ کی رات شروع ہوئی اور اس کا تعلق پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کے دوران سیکیورٹی انتظامات سے بتایا گیا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ایک اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ اعلیٰ حکام کی ہدایات پر عارضی طور پر موبائل خدمات بند کی گئیں۔ یہ اقدام مارچ کے دوران احتیاطی سیکیورٹی ضرورت کے طور پر بیان کیا گیا۔ تاہم بندش کے دائرے اور اس کے خاتمے کے حتمی وقت کے بارے میں خبر میں مکمل تفصیلات موجود نہیں تھیں۔
پی ٹی آئی کا مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوا تھا اور 8 اکتوبر کو پشاور پہنچنے کا پروگرام تھا۔ رپورٹ کے مطابق بعض نجی تعلیمی ادارے بھی بند رہے، مگر نجی اسکولوں کے نگران ادارے نے کہا کہ اس نے عام تعطیل کا کوئی حکم جاری نہیں کیا۔
اس خبر کے وقت صورت حال بدل سکتی تھی۔ شہری رابطوں اور تعلیم کے متاثر ہونے کے باعث ایسے انتظامات کے دورانیے اور واضح سرکاری اطلاع کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
