اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی نئی سہ ماہی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران مجموعی طور پر ایک ہزار پچپن حملوں کا دعویٰ کیا۔ تحقیقی ادارے نے واضح کیا ہے کہ یہ اعدادوشمار خود تنظیم کی جاری کردہ کارروائیوں کی رپورٹس سے لیے گئے ہیں، نہ کہ آزادانہ طور پر تصدیق کیے گئے حملوں سے۔
پی آئی سی ایس ایس سے وابستہ محقق عبداللہ خان کی 9 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق تنظیم نے جولائی میں 315، اگست میں 406 اور ستمبر میں 334 کارروائیوں کا دعویٰ کیا۔ ان اعدادوشمار کو جمع کرنے سے 1,055 بنتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تنظیم کی جانب سے ہلاکتوں، زخمیوں اور گرفتار کیے گئے افراد کی پیش کردہ تعداد بھی آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں۔
یہ فرق خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پی آئی سی ایس ایس کا اپنا عسکریت پسندی کا ڈیٹا بیس واقعات کو الگ طریقے سے ریکارڈ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ادارے کی ستمبر کی ماہانہ رپورٹ میں پاکستان بھر میں تمام متعلقہ عسکریت پسند گروہوں سے منسوب 225 حملے درج کیے گئے تھے۔ لہٰذا ٹی ٹی پی کے دعویٰ کردہ 334 ستمبر کے واقعات کو اسی پیمانے کی تصدیق شدہ سرکاری یا تحقیقی تعداد سمجھ کر پیش کرنا درست نہیں۔
تحقیق میں تنظیمی توسیع کو بھی مرکزی موضوع بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھوٹے مسلح دھڑوں کو اپنے ڈھانچے میں شامل کرنے کے اعلانات کیے۔ جولائی اور ستمبر میں نئے گروہوں کی بیعت کے دعوے سامنے آئے، جنہیں تحقیق تنظیم کی مرکزی قیادت مضبوط کرنے اور روایتی قبائلی علاقوں سے باہر اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھتی ہے۔ تاہم ان اعلانات سے کسی مخصوص علاقے پر تنظیم کا مؤثر کنٹرول خودبخود ثابت نہیں ہوتا۔
رپورٹ کے مطابق تنظیم کی قیادت اور ابلاغی شعبے میں بھی تبدیلیاں ہوئیں۔ اگست میں سربراہ مفتی نور ولی محسود کی ایک طویل ویڈیو جاری کی گئی، جس کا مقصد قیادت کی سرگرم موجودگی کا تاثر دینا سمجھا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس ویڈیو کی فلم بندی کا مقام آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کیا جا سکا۔ اسی دوران بعض علاقائی کمانڈروں کی ہلاکتوں کے بعد نئے عہدیداروں کے نام سامنے آئے۔
پی آئی سی ایس ایس نے ٹی ٹی پی کی بھرتی اور تشہیری کوششوں میں جدید ڈیجیٹل ذرائع اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے استعمال کی نشاندہی بھی کی۔ ادارے کے مطابق تنظیم اپنے پیغامات مختلف زبانوں اور متعدد آن لائن شکلوں میں پھیلا رہی ہے، جس سے نوجوانوں تک رسائی بڑھانے اور ایک منظم تنظیمی تاثر قائم کرنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔ ایسی مہمات کی رسائی کا دعویٰ اور حقیقی بھرتی یا عوامی حمایت کی مقدار الگ معاملات ہیں۔
رپورٹ میں ٹی ٹی پی کے ساتھ بعض دیگر مسلح تنظیموں، خصوصاً جماعت الاحرار اور اتحاد المجاہدین پاکستان، کی رقابتوں کو بھی اہم بتایا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق اس مقابلے سے مختلف گروہوں کی بھرتی، اثرورسوخ اور عملی سرگرمیوں میں تبدیلیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، قیادت کا نقصان اور اندرونی اختلافات بھی ٹی ٹی پی کی توسیع میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
تحقیقی ادارے کا مجموعی جائزہ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی 2026 کی تیسری سہ ماہی میں تنظیمی ڈھانچہ، جغرافیائی دائرہ اور ڈیجیٹل تشہیر بڑھانے کی کوشش کرتی رہی۔ تاہم رپورٹ نے اپنی اور تنظیم کی عددی معلومات میں نمایاں فرق برقرار رکھا ہے۔ عسکریت پسند تنظیم کے بیان کردہ کسی حملے یا نقصان کو آزادانہ شواہد کے بغیر ثابت شدہ واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے متاثرین کے تحفظ اور درست پالیسی سازی کے لیے ضروری ہے کہ مختلف ذرائع کے اعدادوشمار کا تقابلی جائزہ لیا جائے، عسکریت پسند تنظیموں کے تشہیری دعووں کی آزاد جانچ ہو اور شہری و سکیورٹی اہلکاروں کے نقصانات کی قابلِ اعتبار دستاویز بندی کی جائے۔
