مواد پر جائیں
تجزیہخطہ

بلوچستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں نمایاں، عسکری منظرنامہ مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ

تجزیہ کار میر زاہد بلوچ کے مطابق شمالی بلوچستان سے باہر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ممکنہ رسائی کے اشارے مل رہے ہیں، تاہم مستقل تنظیمی موجودگی یا بلوچ مسلح گروہوں سے باقاعدہ اتحاد کے واضح شواہد نہیں۔

شائع شدہ

8 منٹ مطالعہ

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اور صوبے میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار میر زاہد بلوچ کے مطابق 2025 اور خصوصاً 2026 کے دوران صوبے کا سکیورٹی منظرنامہ اہم تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ کئی برس تک یہاں مسلح شورش کا بنیادی حوالہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں، بالخصوص کالعدم بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ رہی ہیں، تاہم اب کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں بھی بعض علاقوں میں زیادہ نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

میر زاہد بلوچ کہتے ہیں کہ یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے بلوچستان میں خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں جیسی مضبوط تنظیمی موجودگی قائم کرلی ہے۔ البتہ مسلح گروہ کے دعووں، سکیورٹی آپریشنز اور مختلف علاقوں سے آنے والی اطلاعات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس کی سرگرمیوں کے جغرافیائی دائرے میں ممکنہ وسعت کے اشارے ملتے ہیں۔

شمالی بلوچستان سے ممکنہ پھیلاؤ

تاریخی طور پر بلوچستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں زیادہ تر کوئٹہ، ژوب، پشین، قلعہ سیف اللہ اور دوسرے پشتون اکثریتی شمالی اضلاع سے منسلک رہی ہیں۔

تجزیے کے مطابق 2025 میں بھی تنظیم کی زیادہ تر سرگرمیاں شمالی بلوچستان میں مرکوز رہیں، تاہم مکران، قلات اور دیگر علاقوں سے بھی مبینہ کارروائیوں یا ان کی ذمہ داری قبول کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 2026 کے دوران ژوب، ہرنائی، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ اور زیارت سمیت متعدد اضلاع میں مسلح سرگرمیوں نے اس رجحان کو مزید نمایاں کیا۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق اہم سوال محض حملوں کی تعداد نہیں بلکہ وہ جغرافیہ ہے جہاں تنظیم کارروائی کرنے یا عملی رسائی پیدا کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔

پنجپائی اور نوشار میں بڑی جھڑپ

23 مئی 2026 کو کوئٹہ کے نواحی علاقوں پنجپائی اور نوشار میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان طویل جھڑپ ہوئی۔ محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق کارروائی میں نو مبینہ شدت پسند مارے گئے، جبکہ محکمے کے چار اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ اس واقعے کی خبریں 23 اور 24 مئی کو شائع ہوئیں۔

بعد ازاں مقامی ذرائع کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کے زیادہ اعداد بھی سامنے آئے، لیکن ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ تجزیہ کار کے مطابق مختلف فریقوں کے اعداد میں نمایاں فرق کی صورت میں غیرمصدقہ دعووں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے متعلقہ فریق ہی سے منسوب رکھنا ضروری ہے۔

زرغون غر میں بڑے آپریشن کی اطلاعات

کوئٹہ کے قریب منگلہ زرغون غر بھی بدلتی سکیورٹی صورت حال میں اہم علاقہ بن کر سامنے آیا۔ مئی میں بلوچستان حکومت کے عہدیدار شاہد رند کے مطابق 13 مئی سے شروع ہونے والی کارروائیوں کے دوران 35 سے زائد مسلح افراد مارے گئے، تین اہم افراد گرفتار ہوئے اور متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

حکومتی بیان میں کارروائیوں کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف بتایا گیا، تاہم ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور جانی نقصان کی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ میر زاہد بلوچ کے مطابق آپریشن کا حجم اور دورانیہ بتاتا ہے کہ حکام اس خطے کو اہم سکیورٹی خطرہ سمجھ رہے تھے۔

پشین، ژوب، زیارت اور کوئٹہ کے نواحی علاقوں کی پیش رفت کو ملا کر شمالی بلوچستان میں ایک وسیع سکیورٹی پٹی ابھرتی دکھائی دیتی ہے جہاں کالعدم تنظیم سے منسلک سرگرمیوں کے بارے میں اطلاعات پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہیں۔

خاران، پنجگور اور مستونگ میں اہم سوال

بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں صرف شمالی بلوچستان تک محدود رہیں گی یا تنظیم جنوبی اور مغربی بلوچستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں میں بھی اپنی عملی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

2026 کے دوران خاران، پنجگور اور مستونگ مسلح واقعات اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے حوالے سے زیر بحث رہے۔ تاہم ان علاقوں کے متعدد حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ یا دوسری بلوچ مسلح تنظیموں نے قبول کی، جبکہ کئی واقعات کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوسکا۔ اس لیے ان علاقوں میں مجموعی تشدد کو براہ راست کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسوب کرنا درست نہیں۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق شمالی بلوچستان سے باہر تنظیم سے منسلک افراد یا کارروائیوں کی مصدقہ اطلاعات کا مسلسل سلسلہ سامنے آئے تو اسے اہم جغرافیائی تبدیلی سمجھا جاسکتا ہے۔ فی الحال مستقل موجودگی کا نتیجہ اخذ کرنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں۔

شمسی ایئربیس سے متعلق کالعدم تنظیم کا دعویٰ

ستمبر 2026 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان سے منسوب ایک بیان میں ضلع واشک کے شمسی ایئربیس کو میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا۔ اس دعوے کو ایک خبررساں ادارے نے رپورٹ کیا، تاہم حملے کے وقوع، استعمال ہونے والے ہتھیار، جانی نقصان اور مادی اثرات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق دعوے کی اہمیت اس مقام میں بھی ہے، کیونکہ واشک شمالی بلوچستان کے ان اضلاع سے دور ہے جہاں تنظیم کی سرگرمیاں نسبتاً زیادہ رپورٹ ہوتی رہی ہیں۔ محض ایسے دعوے کی بنیاد پر واشک میں تنظیم کے مستقل نیٹ ورک کا وجود ثابت نہیں ہوتا، مگر یہ جنوبی اور مغربی علاقوں تک اس کی ممکنہ رسائی کے بارے میں سوال پیدا کرتا ہے۔

اغوا، حراست اور قبائلی ثالثی

بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کا ایک پہلو اغوا اور قبائلی ثالثی بھی ہے۔ ژوب اور اس کے گردونواح سے افراد کی حراست اور بعد میں قبائلی عمائدین کی مداخلت سے رہائی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ہر واقعے کی ذمہ داری کسی مخصوص تنظیم پر عائد نہیں کی جاسکتی۔

20 ستمبر کو خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے اغوا کیا گیا۔ وہ تقریباً دو ہفتے بعد 2 اکتوبر کو بازیاب ہوئے۔ پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق قبائلی عمائدین نے بات چیت میں کردار ادا کیا۔ اغوا کرنے والوں کی شناخت کا آزادانہ تعین نہیں ہوسکا۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق ایسے واقعات مقامی سطح پر ریاستی اختیار کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں، تاہم قبائلی ثالثی کو خودبخود ریاستی اختیار کے خاتمے کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ بلوچستان میں یہ طویل عرصے سے تنازعات کے حل کا ایک ذریعہ رہی ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ مسلح تنظیمیں: کیا تعاون موجود ہے؟

ایک حساس سوال یہ بھی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ علیحدگی پسند مسلح تنظیموں کے درمیان کوئی عملی تعاون موجود ہے یا نہیں۔

دونوں کے نظریاتی اور سیاسی مقاصد مختلف ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان جہادی نظریاتی فریم ورک رکھتی ہے، جبکہ بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور دوسری بڑی بلوچ مسلح تنظیمیں علیحدگی پسند یا قوم پرستانہ مقاصد رکھتی ہیں۔

بعض علاقوں میں ان کی سرگرمیوں کا جغرافیائی دائرہ قریب آتا دکھائی دیتا ہے، لیکن دستیاب عوامی شواہد کسی باقاعدہ اتحاد، مشترکہ کمانڈ یا منظم اور مستقل عملی شراکت داری کو ثابت نہیں کرتے۔ بعض رپورٹوں میں محدود رابطوں یا عملی تعاون کے الزامات سامنے آئے ہیں، مگر ان کا دائرہ اور نوعیت آزادانہ طور پر واضح نہیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ مختلف گروہ ایک ہی سکیورٹی ماحول کی کمزوریوں سے الگ الگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ جغرافیائی اشتراک کو باقاعدہ عسکری اتحاد قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

بلوچستان میں کثیرالجہتی شورش

میر زاہد بلوچ کے مطابق 2026 کی اہم پیش رفت یہ ہے کہ بلوچستان میں تشدد کو صرف ایک شورش کے تناظر میں مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند مسلح گروہ جنوبی، وسطی اور مغربی بلوچستان میں سرگرم ہیں، جبکہ تحریک طالبان پاکستان سے منسلک سرگرمیاں شمالی پشتون اکثریتی اضلاع میں زیادہ نمایاں ہیں۔

تنظیم کے بعض دعووں اور روایتی علاقوں سے باہر سامنے آنے والی اطلاعات نے اس کے جغرافیائی پھیلاؤ کے بارے میں سوال پیدا کیے ہیں۔ نتیجتاً صوبے میں مختلف سیاسی مقاصد اور نظریات رکھنے والے مسلح گروہوں سے الگ الگ سکیورٹی چیلنج پیدا ہو رہے ہیں۔

میر زاہد بلوچ کا تجزیاتی نتیجہ

تجزیہ کار کے مطابق دستیاب شواہد سے چار محتاط نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔

اول، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے جغرافیائی دائرے میں وسعت کے اشارے ملتے ہیں، لیکن اس کی سب سے واضح موجودگی اب بھی شمالی بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں میں ہے۔

دوم، مستونگ، پنجگور، خاران اور واشک سے متعلق اطلاعات، خصوصاً شمسی ایئربیس سے متعلق غیرمصدقہ دعویٰ، بلوچ اکثریتی علاقوں میں تنظیم کی ممکنہ عملی رسائی کا سوال اٹھاتے ہیں۔ تاہم کسی وسیع اور مستقل نیٹ ورک کے قیام کا ثبوت ابھی دستیاب نہیں۔

سوم، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بڑی بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے باقاعدہ اتحاد کا واضح عوامی ثبوت موجود نہیں۔ جغرافیائی اشتراک یا ممکنہ محدود مقامی مفاہمت کو مشترکہ کمانڈ نہیں سمجھنا چاہیے۔

چہارم، بلوچستان کا سکیورٹی چیلنج ایک واحد شورش کے بجائے متعدد مسلح عناصر کی بیک وقت سرگرمیوں کے سبب زیادہ پیچیدہ ہو رہا ہے۔

میر زاہد بلوچ کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بلوچستان میں موجود ہے یا نہیں، کیونکہ اس کی موجودگی ماضی میں بھی رپورٹ ہوتی رہی ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا تنظیم شمالی بلوچستان سے اپنی ممکنہ بڑھتی ہوئی عملی رسائی کو ایک مستقل تنظیمی نیٹ ورک میں بدل سکتی ہے جو بلوچ اکثریتی علاقوں تک بھی پھیل جائے۔

اس کا جواب آنے والے مہینوں میں اس امر سے ملے گا کہ 2026 کے واقعات مستقل حملوں، مقامی نیٹ ورکس اور مسلسل تنظیمی سرگرمیوں کے رجحان میں تبدیل ہوتے ہیں یا مختلف علاقوں میں ہونے والی چند منتشر کارروائیوں تک محدود رہتے ہیں۔ کسی علاقے میں ایک کارروائی، عارضی عملی رسائی اور مستقل تنظیمی جڑیں قائم کرنے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/ttp-balochistan-geographic-expansion-mir-zahid-baloch-2026-10-09?lang=ur