امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی وائٹ ہاؤس میں سرکاری ملاقات شروع ہوگئی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے 24 ستمبر کو شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کے سرکاری دورے اور استقبالیہ تقریب کی تصدیق کی تھی، جسے امریکا اور چین کے تعلقات میں ایک اہم اعلیٰ سطح رابطہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب دونوں ممالک تجارت، محصولات، ٹیکنالوجی اور نایاب معدنیات سے متعلق متعدد اختلافات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکا اپنی مقامی کان کنی اور پراسیسنگ بڑھانے کے باوجود نایاب معدنیات کی بعض اہم اقسام کے لیے آئندہ برسوں تک چین پر انحصار برقرار رکھ سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت بھی دونوں حکومتوں کے وسیع تر ٹیکنالوجی تعلقات کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ امریکی اور چینی حکام نے حالیہ رابطوں میں مصنوعی ذہانت، برآمدی پابندیوں، حساس ٹیکنالوجی اور ممکنہ حفاظتی ضابطوں سے متعلق امور پر گفتگو کی ہے۔
دونوں ممالک نے سربراہی ملاقات سے قبل موجودہ تجارتی جنگ بندی میں دو ماہ کی توسیع پر اتفاق کیا تھا۔ ملاقات کے نتائج، کسی ممکنہ نئے تجارتی سمجھوتے اور نایاب معدنیات سے متعلق وعدوں پر عالمی منڈیاں قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔
