امریکا میں بلیو کراس بلیو شیلڈ ایسوسی ایشن کی ایک نئی تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت سے مدد لینے والے طبی بلنگ طریقوں کے بڑھتے استعمال نے دو برس میں اس کی رکن بیمہ کمپنیوں کے اخراجات میں تقریباً ایک ارب ڈالر کا اضافہ کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق تحقیق میں 2024 اور 2025 کے اعداد کا 2023 سے موازنہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق طبی فراہم کنندگان نے ایسے ثانوی عوارض کے لیے زیادہ کثرت سے بلنگ کی جو اصل بیماری کے ساتھ درج کیے جاتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس رجحان سے دو برس میں 653 ملین ڈالر اضافی لاگت پیدا ہوئی۔
وسیع تر طور پر زیادہ شدت والے علاج اور بلنگ کی درجہ بندی سے بلیو کراس بلیو شیلڈ سے وابستہ بیمہ کمپنیوں کے اخراجات میں 942 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یہ رقم ایسوسی ایشن کی اپنی تحقیق کا نتیجہ ہے اور پورے امریکی طبی نظام کا سرکاری قومی تخمینہ نہیں۔
طبی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال مریضوں کے ریکارڈ، کوڈنگ اور بلنگ میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کے ساتھ بیمہ کمپنیوں اور طبی فراہم کنندگان کے درمیان یہ بحث بھی بڑھ رہی ہے کہ خودکار آلات بلنگ کی درستگی بہتر کرتے ہیں یا علاج کے اخراجات کو غیر ضروری طور پر اوپر لے جاتے ہیں۔
