مواد پر جائیں

بلوچستان میں کالعدم TTP کی سرگرمیاں بڑھنے لگیں، عسکری منظرنامہ مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اور صوبے میں عسکری گروہوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار میر زاہد بلوچ کے مطابق بلوچستان کا سکیورٹی منظرنامہ 2025 اور خصوصاً 2026 کے دوران اہم تبدیل

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

9 منٹ مطالعہ

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اور صوبے میں عسکری گروہوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار میر زاہد بلوچ کے مطابق بلوچستان کا سکیورٹی منظرنامہ 2025 اور خصوصاً 2026 کے دوران اہم تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ ان کے مطابق کئی برسوں تک بلوچستان میں مسلح مزاحمت کا بنیادی حوالہ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں، بالخصوص کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (BLF) رہی ہیں، تاہم اب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کی سرگرمیاں بھی بعض علاقوں میں زیادہ نمایاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

میر زاہد بلوچ کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ کالعدم TTP نے بلوچستان میں خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں جیسی مضبوط تنظیمی موجودگی قائم کرلی ہے، تاہم مسلح گروپ کے دعووں، سکیورٹی آپریشنز اور مختلف علاقوں سے سامنے آنے والی اطلاعات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کالعدم TTP سے منسلک سرگرمیوں کے جغرافیائی دائرے میں ممکنہ وسعت کے اشارے ملتے ہیں۔

شمالی بلوچستان سے ممکنہ پھیلاؤ

تاریخی طور پر بلوچستان میں کالعدم TTP کی سرگرمیاں زیادہ تر کوئٹہ، ژوب، پشین، قلعہ سیف اللہ اور دیگر پشتون اکثریتی شمالی اضلاع سے منسلک رہی ہیں۔

تجزیے کے مطابق 2025 میں بھی کالعدم TTP کی زیادہ تر سرگرمیاں شمالی بلوچستان میں مرکوز رہیں، تاہم مکران، پشین، قلعہ سیف اللہ اور قلات سمیت دیگر علاقوں سے بھی تنظیم سے منسلک کارروائیوں یا دعووں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

2026 میں ژوب، ہرنائی، پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ اور زیارت سمیت مختلف اضلاع میں مسلح سرگرمیوں کی اطلاعات نے اس رجحان کو مزید نمایاں کیا۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق اہم بات صرف حملوں کی تعداد نہیں بلکہ وہ جغرافیہ ہے جہاں کالعدم TTP اپنی کارروائیاں کرنے یا عملی رسائی پیدا کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے۔

پنجپائی اور نوشار میں بڑی جھڑپ

24 مئی کو کوئٹہ کے نواحی علاقوں پنجپائی اور نوشار میں سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان طویل جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے مطابق کارروائی کے دوران 9 شدت پسند مارے گئے، جبکہ CTD کے 4 اہلکار ہلاک اور 6 زخمی ہوئے۔

بعد ازاں مقامی ذرائع کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے جانی نقصان کے اس سے کہیں زیادہ اعداد بھی سامنے آئے، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق بلوچستان میں مختلف فریقوں کی جانب سے جانی نقصان کے اعداد میں اکثر نمایاں فرق ہوتا ہے، اس لیے آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی صورت میں ایسے اعداد کو حتمی حقیقت کے بجائے متعلقہ فریق کے دعوے کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔

زرغون غر میں بڑے آپریشن کی اطلاعات

کوئٹہ کے قریب زرغون غر بھی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں اہم علاقہ بن کر سامنے آیا ہے۔

مئی میں بلوچستان حکومت کے ایک عہدیدار کے مطابق 13 مئی سے منگلہ/زرغون غر کے علاقے میں جاری کارروائیوں کے دوران 35 سے زائد مسلح افراد مارے گئے جبکہ کالعدم TTP اور دیگر مسلح عناصر سے منسلک متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے۔

ان کارروائیوں کے جانی نقصان کی مکمل آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم میر زاہد بلوچ کے مطابق کارروائی کا حجم اور دورانیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکام اس علاقے کو ایک اہم سکیورٹی خطرے کے طور پر دیکھ رہے تھے۔

پشین، ژوب، زیارت اور کوئٹہ کے نواحی علاقوں کی پیش رفت کو ملا کر دیکھا جائے تو شمالی بلوچستان میں ایک وسیع سکیورٹی بیلٹ بنتا دکھائی دیتا ہے جہاں کالعدم TTP سے منسلک سرگرمیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوئی ہیں۔

خاران، پنجگور اور مستونگ میں اہم سوال

تجزیے کے مطابق اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا کالعدم TTP کی سرگرمیاں صرف شمالی بلوچستان تک محدود رہیں گی یا تنظیم جنوبی اور مغربی بلوچستان کے بلوچ اکثریتی علاقوں تک بھی اپنی عملی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

2026 کے دوران خاران، پنجگور اور مستونگ مختلف مسلح واقعات اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے حوالے سے سامنے آئے۔

تاہم ان علاقوں میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری کالعدم BLA، کالعدم BLF یا دیگر بلوچ مسلح تنظیموں نے قبول کی ہے، جبکہ بعض واقعات کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔

اس لیے ان علاقوں میں تشدد کے مجموعی اضافے کو براہ راست کالعدم TTP سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا۔

اس کے باوجود کالعدم TTP سے منسلک افراد، تنظیم کے دعووں اور شمالی بلوچستان سے باہر ہونے والی کارروائیوں سے متعلق اطلاعات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق اگر خاران، پنجگور اور مستونگ میں کالعدم TTP سے مخصوص واقعات کا مسلسل سلسلہ سامنے آتا ہے تو یہ ایک اہم جغرافیائی تبدیلی کی علامت ہوگی۔

شمسی ایئربیس پر حملے کا کالعدم TTP دعویٰ

جغرافیائی اعتبار سے اہم پیش رفت ضلع واشک میں سامنے آئی۔

ستمبر 2026 میں کالعدم TTP نے دعویٰ کیا کہ اس نے شمسی ایئربیس کو BM میزائل سے نشانہ بنایا۔

تاہم حملے کے نتیجے میں جانی یا مالی نقصان سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق اس واقعے کی اہمیت صرف نقصان کے دعوے میں نہیں بلکہ مقام میں ہے، کیونکہ شمسی ایئربیس شمالی بلوچستان کے ان علاقوں سے خاصا دور ہے جہاں کالعدم TTP کی سرگرمیاں زیادہ نمایاں رہی ہیں۔

صرف اس واقعے کی بنیاد پر واشک میں کالعدم TTP کی مستقل تنظیمی موجودگی ثابت نہیں ہوتی، تاہم اسے مستونگ، پنجگور اور دیگر جنوبی علاقوں سے منسلک اطلاعات کے ساتھ دیکھا جائے تو تنظیم کی ممکنہ جنوب اور مغرب کی جانب رسائی کے سوال کو اہمیت ملتی ہے۔

اغوا، حراست اور قبائلی ثالثی

بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کا ایک اور اہم پہلو اغوا اور قبائلی ثالثی ہے۔

ژوب اور اس کے اطراف کالعدم TTP سے منسلک بعض واقعات میں افراد کو حراست میں لیے جانے اور بعد میں قبائلی عمائدین کی مداخلت یا ضمانت کے ذریعے رہائی کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اسی طرح ستمبر میں خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے اغوا کیا گیا۔ تقریباً دو ہفتے بعد انہیں ایسے مذاکرات کے بعد رہا کیا گیا جن میں قبائلی عمائدین نے مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق اس نوعیت کے واقعات ایک وسیع سوال اٹھاتے ہیں کہ جب سرکاری اہلکاروں یا شہریوں کی بازیابی کے لیے قبائلی ثالثی بار بار استعمال ہو تو اس سے مقامی سطح پر ریاستی اختیار کے بارے میں تاثر کس حد تک متاثر ہوتا ہے۔

تاہم ان کے مطابق قبائلی ثالثی کو خود بخود ریاستی اختیار کے خاتمے کی علامت قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ بلوچستان میں قبائلی ثالثی طویل عرصے سے تنازعات کے حل کا ایک ذریعہ رہی ہے۔

کالعدم TTP اور بلوچ مسلح تنظیمیں: کیا کوئی تعاون ہے؟

بلوچستان کے موجودہ سکیورٹی منظرنامے میں ایک حساس سوال یہ بھی ہے کہ کالعدم TTP اور کالعدم بلوچ مسلح تنظیموں کے درمیان کسی قسم کا تعاون موجود ہے یا نہیں۔

تجزیے کے مطابق کالعدم TTP کا نظریاتی اور سیاسی فریم ورک بلوچ مسلح تنظیموں سے مختلف ہے۔ کالعدم TTP بنیادی طور پر جہادی نظریاتی فریم ورک کے تحت سرگرم ہے، جبکہ کالعدم BLA، کالعدم BLF اور دیگر بڑی بلوچ مسلح تنظیمیں علیحدگی پسند یا قوم پرستانہ مقاصد رکھتی ہیں۔

اگرچہ بعض علاقوں میں ان تنظیموں کا جغرافیائی دائرہ ایک دوسرے کے قریب آتا دکھائی دیتا ہے، لیکن دستیاب عوامی شواہد کسی باقاعدہ اتحاد، مشترکہ کمانڈ یا منظم عملی شراکت داری کو ثابت نہیں کرتے۔

بعض تجزیہ کار محدود عملی تعاون، مقامی مفاہمت یا ایک دوسرے کی کارروائیوں میں عدم مداخلت کے امکانات پر سوال اٹھاتے ہیں، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ مختلف گروہ صرف ایک ہی سکیورٹی ماحول کی کمزوریوں سے الگ الگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

اس لیے جغرافیائی اشتراک کو مشترکہ شورشی کمانڈ یا باقاعدہ اتحاد قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

بلوچستان میں کثیرالجہتی شورش

میر زاہد بلوچ کے مطابق 2026 کی اہم پیش رفت یہ ہے کہ بلوچستان میں تشدد کو اب صرف ایک ہی شورش کے تناظر میں مکمل طور پر سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

کالعدم BLA، کالعدم BLF اور دیگر بلوچ مسلح تنظیمیں جنوبی، وسطی اور مغربی بلوچستان میں سرگرم ہیں، جبکہ کالعدم TTP کی سرگرمیاں شمالی بلوچستان میں زیادہ نمایاں ہیں۔

دوسری جانب کالعدم TTP کے بعض دعووں اور تنظیم سے منسلک سرگرمیوں نے اس کے روایتی پشتون اکثریتی علاقوں سے باہر ممکنہ رسائی کے بارے میں بھی سوالات پیدا کیے ہیں۔

اس صورتحال نے بلوچستان میں ایک ایسا کثیرالجہتی عسکری ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں مختلف نظریات اور مختلف سیاسی مقاصد رکھنے والے مسلح گروہ مختلف علاقوں میں ریاست کے لیے الگ الگ سکیورٹی چیلنج پیدا کر رہے ہیں۔

میر زاہد بلوچ کا تجزیاتی نتیجہ

میر زاہد بلوچ کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر چند محتاط نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں:

اول: بلوچستان میں کالعدم TTP کی سرگرمیوں کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہوتا دکھائی دیتا ہے، تاہم تنظیم کی سب سے واضح موجودگی اب بھی شمالی بلوچستان کے پشتون اکثریتی علاقوں میں ہے۔

دوم: مستونگ، پنجگور، خاران اور واشک سے متعلق اطلاعات، خصوصاً شمسی ایئربیس کے بارے میں کالعدم TTP کا دعویٰ، یہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ آیا تنظیم بلوچ اکثریتی علاقوں میں بھی اپنی عملی رسائی بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم موجودہ شواہد ابھی کسی وسیع اور مستقل نیٹ ورک کے قیام کو ثابت نہیں کرتے۔

سوم: کالعدم TTP اور بڑی بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے درمیان کسی باقاعدہ اتحاد کا واضح عوامی ثبوت موجود نہیں۔ جغرافیائی اشتراک یا محدود مقامی مفاہمت کو مشترکہ کمانڈ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

چہارم: بلوچستان کا سکیورٹی چیلنج اب ایک واحد شورش کے بجائے متعدد مسلح عناصر کی بیک وقت موجودگی سے زیادہ پیچیدہ ہو رہا ہے۔

میر زاہد بلوچ کے مطابق اصل سوال اب یہ نہیں کہ کالعدم TTP بلوچستان میں موجود ہے یا نہیں، کیونکہ تنظیم کی موجودگی ماضی میں بھی رپورٹ ہوتی رہی ہے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ آیا کالعدم TTP شمالی بلوچستان سے اپنی بڑھتی ہوئی عملی رسائی کو ایک مستقل اور وسیع تنظیمی footprint میں تبدیل کر سکتی ہے جو صوبے کے بلوچ اکثریتی علاقوں تک بھی پھیل جائے۔

اس کا جواب آنے والے مہینوں میں اس بات سے ملے گا کہ 2026 میں سامنے آنے والے واقعات مسلسل حملوں، مقامی نیٹ ورکس اور مستقل تنظیمی سرگرمیوں کے ایک واضح pattern میں تبدیل ہوتے ہیں یا مختلف علاقوں میں ہونے والی چند منتشر کارروائیوں تک محدود رہتے ہیں۔

فی الحال دستیاب شواہد بلوچستان میں ایک وسیع ہوتے ہوئے اور پہلے سے زیادہ پیچیدہ عسکری منظرنامے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تاہم کسی علاقے میں کارروائی کرنے، عارضی رسائی حاصل کرنے اور مستقل تنظیمی جڑیں قائم کرنے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔

سیکشن اور موضوعات

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/draft-1791521342151?lang=ur