گوجرانوالہ کی ایک عدالت نے قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں شہری محمد رضوان کی مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے مقدمے میں سابق ایس ایچ او حسن عمران سید سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ رضوان کی ہلاکت جولائی 2024 میں ہوئی تھی اور ان کے اہل خانہ اسے پولیس حراست میں قتل قرار دیتے ہیں۔
روزنامہ دنیا کی 9 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق گرفتار اہلکاروں کو سینئر سول جج احسان صابر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے نے مزید نو روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی، تاہم عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
گرفتار اہلکاروں میں سابق ایس ایچ او حسن عمران سید، سب انسپکٹر طارق محمود، سب انسپکٹر محمد صادق، محمد اشتیاق اور محمد یعقوب شامل ہیں۔
مقدمے میں مقتول کے خاندان کا الزام ہے کہ مصطفیٰ آباد پولیس نے رضوان کو پہلے حراست میں لیا اور بعد میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کرکے واقعے کو ڈکیتی کی واردات سے جوڑ دیا۔ پولیس کا ابتدائی مؤقف اس سے مختلف تھا۔ ان الزامات پر ایف آئی اے نے تحقیقات کی ہیں، تاہم ملزمان کے خلاف جرم کا حتمی فیصلہ ابھی عدالت نے نہیں کیا۔
دو اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں پولیس اہلکاروں کی عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کی تھیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مدعی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ رضوان کو ڈکیتی کے مقدمے میں گرفتار کرنے کے بعد پولیس حراست میں قتل کیا گیا۔ اس عدالتی کارروائی کے بعد احاطہ عدالت میں بدنظمی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں اور اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔
تین اکتوبر کو گوجرانوالہ کی عدالت نے پانچ ملزمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا۔ تازہ عدالتی حکم اسی تفتیشی مرحلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
مارگلہ نیوز کو فراہم کی گئی ایک تحریر میں مقتول کے بھائی عرفان کے انٹرویو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ رضوان کے خلاف چند گھنٹوں میں متعدد مقدمات درج ہوئے اور نگرانی کرنے والے کیمروں کی ریکارڈنگ نے پولیس کے بتائے گئے واقعے کے وقت پر سوال اٹھائے۔ متعلقہ اصل ریکارڈنگ اور دستاویزات کا آزادانہ جائزہ دستیاب نہ ہونے کے باعث ان تفصیلات کو خاندان کے دعوے کے طور پر بیان کیا جارہا ہے۔
عرفان، جو وکیل ہیں، کے مطابق وہ اپنے بھائی کی ہلاکت کے معاملے میں دو سال سے زائد عرصے سے قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں۔ خاندان کے بیان کے مطابق رضوان کے ہاں شادی کے 13 برس بعد بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی اور وفات کے وقت بچہ تین ماہ کا تھا۔
یہ معاملہ پولیس حراست میں شہریوں کے تحفظ اور پولیس مقابلوں کی آزادانہ تحقیقات کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ گرفتار پولیس اہلکار فی الحال مقدمے میں ملزم ہیں؛ ان کے خلاف الزامات کو ثابت یا رد کرنا مجاز عدالت کا کام ہے۔
