“ڈرون حملہ”، “فضائی حملہ” اور “میزائل حملہ” بریکنگ نیوز میں بعض اوقات ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، لیکن یہ مختلف چیزیں بیان کرتے ہیں۔
ڈرون بغیر پائلٹ کا فضائی پلیٹ فارم ہوتا ہے، یعنی ایسا طیارہ جس میں انسان سوار نہ ہو اور جسے دور سے چلایا جا سکے یا وہ مختلف درجے کی خودکار صلاحیت رکھتا ہو۔ ڈرون حملہ اس کارروائی کو کہا جاتا ہے جس میں ایسا بغیر پائلٹ طیارہ حملے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہو۔ بعض ڈرون میزائل یا بم گراتے ہیں، جبکہ بعض خود ہدف سے ٹکراتے ہیں۔
فضائی حملہ زیادہ وسیع اصطلاح ہے۔ عموماً اس سے مراد ایسا حملہ ہے جو فوجی طیارے سے کیا جائے۔ طیارہ پائلٹ والا جنگی جہاز یا بمبار ہو سکتا ہے، اور بعض استعمال میں بغیر پائلٹ طیارہ بھی اس زمرے میں آ سکتا ہے۔ یہ لفظ صرف اتنا بتاتا ہے کہ حملہ فضائی پلیٹ فارم سے ہوا، اس سے ہتھیار کی درست قسم لازماً معلوم نہیں ہوتی۔
میزائل حملہ پلیٹ فارم کے بجائے استعمال ہونے والے ہتھیار کو بیان کرتا ہے۔ میزائل رہنمائی رکھنے والا ہتھیار ہے جو زمین، بحری جہاز، آبدوز یا طیارے سمیت مختلف جگہوں سے داغا جا سکتا ہے۔ بیلسٹک اور کروز میزائل کے پرواز طریقے مختلف ہوتے ہیں، مگر دونوں میزائل ہیں۔
اسی لیے اصطلاحات ایک دوسرے سے مل سکتی ہیں۔ پائلٹ والا طیارہ میزائل داغے تو واقعہ فضائی حملہ بھی ہو سکتا ہے اور میزائل حملہ بھی۔ ڈرون میزائل داغے تو دونوں اصطلاحات استعمال ہو سکتی ہیں۔ لیکن زمین سے داغا گیا بیلسٹک میزائل صرف اس لیے فضائی حملہ نہیں بنتا کہ وہ فضا سے گزرتا ہے۔
صحافت میں یہ فرق اہم ہے، کیونکہ غلط اصطلاح ایسی فوجی صلاحیت یا ذمہ داری کا تاثر دے سکتی ہے جو ابھی ثابت نہ ہوئی ہو۔ ابتدائی خبر میں دھماکہ معلوم ہو سکتا ہے، مگر ہتھیار کی قسم بعد میں ملبے، ریڈار، تصاویر یا تحقیقات سے واضح ہوتی ہے۔
