مواد پر جائیں
وضاحتی رپورٹتصدیق شدہ

آپ سوتے ہیں تو دماغ بند نہیں ہوتا: نیند کے دوران جسم میں اصل میں کیا ہوتا ہے؟

نیند محض آرام نہیں؛ دماغ یادداشت ترتیب دیتا ہے، جسم مختلف نظاموں کی مرمت اور تنظیم کرتا ہے، اور رات بھر REM اور non-REM کے کئی مراحل بار بار آتے ہیں۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

شیئر
ای میل

ہم اکثر نیند کو ایسے بیان کرتے ہیں جیسے انسان نے چند گھنٹوں کے لیے اپنا نظام بند کر دیا ہو۔ حقیقت اس کے تقریباً الٹ ہے۔ آپ کی آنکھیں بند ہوتی ہیں، جسم نسبتاً پرسکون ہو جاتا ہے، لیکن دماغ، دل، hormones، metabolism اور immune system مختلف انداز میں اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ نیند ایک passive خاموشی نہیں بلکہ ایک منظم biological process ہے۔

NIH کے مطابق نیند کے دوران دماغ active رہتا ہے اور رات بھر مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ broadly دو بڑی اقسام بیان کی جاتی ہیں: non-REM sleep اور REM sleep۔ یہ stages رات میں ایک بار نہیں بلکہ کئی cycles میں دہرائی جاتی ہیں۔ ہر stage میں brain waves، breathing، heart rate اور muscle activity کا pattern بدل سکتا ہے۔

جب انسان non-REM کے ابتدائی مراحل میں داخل ہوتا ہے تو جاگنے کی حالت سے نیند کی طرف منتقلی شروع ہوتی ہے۔ دل کی رفتار اور سانس نسبتاً سست ہو سکتے ہیں، muscles relax ہونے لگتے ہیں اور بیرونی ماحول سے responsiveness کم ہوتی جاتی ہے۔ deeper non-REM sleep میں جسم کو نسبتاً گہرا آرام ملتا ہے اور صبح تازگی کے احساس میں اس stage کا اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔

REM یعنی rapid eye movement sleep میں دماغی activity بعض پہلوؤں سے جاگنے کی حالت کے زیادہ قریب دکھائی دے سکتی ہے۔ اسی مرحلے میں vivid dreams زیادہ عام ہوتے ہیں۔ آنکھیں پلکوں کے نیچے تیزی سے حرکت کر سکتی ہیں، جبکہ جسم کے بڑے skeletal muscles عارضی طور پر بہت کم active رہتے ہیں۔ سائنس دان REM اور non-REM دونوں کو learning، memory اور emotional processing کے مختلف پہلوؤں سے جوڑتے ہیں۔

ہمیں نیند آتی کیوں ہے؟ اس میں کم از کم دو بڑے systems اہم ہیں۔ ایک sleep drive ہے جو آپ کے جاگتے رہنے کے ساتھ بڑھتا جاتا ہے۔ دن بھر دماغ میں adenosine نامی chemical جمع ہوتا ہے اور نیند کی ضرورت بڑھتی جاتی ہے۔ دوسرا circadian clock ہے، یعنی جسم کی تقریباً 24 گھنٹے والی اندرونی گھڑی، جو روشنی اور اندھیرے جیسے signals سے متاثر ہوتی ہے اور طے کرنے میں مدد دیتی ہے کہ کس وقت alertness زیادہ ہوگی اور کس وقت نیند کا رجحان بڑھے گا۔

اسی لیے پوری رات جاگنے کے بعد صرف تھکن نہیں ہوتی، attention اور reaction بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ NIH کے مطابق ناکافی یا خراب معیار کی نیند learning، information processing، focus اور clear thinking میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بات صرف امتحان یا دفتر تک محدود نہیں؛ ڈرائیونگ جیسے کاموں میں reaction time کی کمی safety risk بن سکتی ہے۔

یادداشت کے لیے بھی نیند اہم ہے۔ جب ہم دن میں نئی معلومات سیکھتے ہیں تو دماغ کو ان memories کو organize اور stabilize کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ مختلف sleep stages memory formation کے مختلف حصوں سے وابستہ پائی گئی ہیں۔ اسی لیے رات بھر پڑھنے کے بعد بالکل نہ سونا بعض اوقات اتنا فائدہ مند نہیں ہوتا جتنا طالب علم سمجھتا ہے؛ دماغ کو information کے ساتھ نیند بھی درکار ہوتی ہے۔

نیند کے دوران cardiovascular system بھی مختلف حالت میں جاتا ہے۔ NHLBI کے مطابق non-REM sleep میں heart rate اور blood pressure عموماً کم ہوتے ہیں اور دل کو جاگنے کے مقابلے میں نسبتاً کم کام کرنا پڑتا ہے۔ REM اور waking کے قریب sympathetic activity دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ طویل عرصے تک ناکافی نیند high blood pressure اور بعض cardiovascular مسائل کے بڑھتے risk سے منسلک کی گئی ہے۔

Metabolism بھی ہماری body clock سے جڑا ہوا ہے۔ hormones، hunger signals اور insulin response پر sleep pattern اثر انداز ہو سکتا ہے۔ NIH material کے مطابق مسلسل کم یا خراب نیند جسم کے energy regulation اور food intake سے متعلق systems کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے sleep health کو صرف “کتنے گھنٹے بستر پر رہے” کے سوال تک محدود نہیں کیا جاتا؛ quality اور timing بھی اہم ہیں۔

Immune system بھی رات کو خاموش نہیں ہوتا۔ مختلف immune processes دن اور رات کے مخصوص اوقات میں زیادہ active ہو سکتے ہیں۔ ناکافی نیند immune function کو متاثر کر سکتی ہے اور بعض infections کے مقابلے میں جسم کے response پر اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ کوئی جادوئی علاج نہیں، مگر sleep جسم کے normal دفاعی نظام کا ایک بنیادی حصہ ہے۔

کیا ہر انسان کو لازماً ایک ہی تعداد میں گھنٹے سونا چاہیے؟ ضرورت عمر، فرد اور حالات کے مطابق بدل سکتی ہے۔ بالغ افراد کے لیے اکثر سات سے نو گھنٹے کی range بیان کی جاتی ہے، لیکن صرف duration کافی نہیں۔ اگر کوئی شخص بستر پر آٹھ گھنٹے رہے مگر بار بار جاگتا رہے تو sleep quality کم ہو سکتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو عموماً بالغ افراد سے زیادہ نیند درکار ہوتی ہے۔

نیند کی ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آپ کا دماغ اندھیرے اور روشنی کو وقت کے اشارے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ رات کو bright screens، بہت بےقاعدہ sleeping times یا shifts circadian timing کو disturb کر سکتے ہیں۔ اسی لیے مستقل schedule اور مناسب light exposure sleep timing میں کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی درست نہیں کہ انسان ہمیشہ کم نیند کا عادی ہو کر نقصان سے مکمل طور پر بچ سکتا ہے۔ بعض لوگ subjective طور پر محسوس کر سکتے ہیں کہ وہ کم نیند میں “ٹھیک” ہیں، لیکن attention، reaction اور دوسرے objective measures پر deficit باقی رہ سکتا ہے۔ chronic sleep deprivation کے اثرات وقت کے ساتھ جمع ہو سکتے ہیں۔

نیند کے بارے میں سب سے خوبصورت حقیقت شاید یہ ہے کہ آرام کی حالت میں بھی جسم بیکار نہیں ہوتا۔ دماغ memories کو سنبھال رہا ہوتا ہے، body systems اپنی rhythm کے مطابق کام کر رہے ہوتے ہیں، hormones بدل رہے ہوتے ہیں اور اگلے دن کے لیے attention، energy اور physical function تیار ہو رہے ہوتے ہیں۔

اس لیے نیند کو دن کے باقی کاموں سے بچ جانے والا وقت سمجھنا درست تصویر نہیں۔ یہ خود ایک biological ضرورت ہے جس کے بغیر دماغ اور جسم دونوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

ماخذ: NIH/NHLBI — How Sleep Works اور Why Is Sleep Important؛ NICHD — About Sleep اور What Makes Us Sleep? یہ عمومی معلومات ہیں، ذاتی طبی مشورہ نہیں۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/explainer-what-happens-when-you-sleep-2026-09-20?lang=ur

ماخذ: https://www.nhlbi.nih.gov/health/sleep/why-sleep-important

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔