داعش پاکستان صوبہ اور داعش خراسان دونوں وسیع تر داعش تنظیم سے منسلک ہیں، لیکن یہ ایک ہی علاقائی شاخ نہیں ہیں۔
داعش خراسان 2015 میں سامنے آیا۔ اس کی تشکیل میں پاکستان، افغانستان اور دوسرے مسلح گروہوں سے الگ ہونے والے جنگجو بھی شامل تھے۔ “خراسان” کا نام تاریخی خطے سے لیا گیا ہے اور اس تنظیم کی سرگرمیاں اور پروپیگنڈا افغانستان، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا کے بعض حصوں تک پھیلا ہوا رہا ہے۔ اس نے افغانستان میں بڑے حملے کیے اور خطے سے باہر حملوں یا منصوبوں سے بھی اس کا نام جوڑا گیا۔
داعش پاکستان صوبہ 2019 میں تنظیمی تبدیلی کے بعد ایک الگ شاخ کے طور پر سامنے آیا۔ یورپی یونین ایجنسی برائے پناہ کے 2026 کے پاکستان رپورٹ کے مطابق یہ بنیادی طور پر پاکستان پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور پنجاب، سندھ، بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر میں زیادہ سرگرم رہا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی موجودگی نسبتاً محدود ہے۔
یہ فرق صحافتی اعتبار سے اہم ہے، کیونکہ ذمہ داری کے دعوے اکثر غلط شاخ سے منسوب کر دیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی حملہ داعش پاکستان صوبہ نے قبول کیا ہو تو صرف مشترک داعش شناخت کی وجہ سے اسے داعش خراسان کا حملہ نہیں کہنا چاہیے۔
دونوں کے اہداف میں بھی فرق رہا ہے۔ داعش خراسان نے طالبان حکام، مذہبی اقلیتوں اور غیر ملکی مفادات سمیت وسیع علاقائی اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ داعش پاکستان صوبہ زیادہ تر پاکستانی اہداف اور بالخصوص بلوچستان میں حملوں سے منسلک رہا ہے۔
مشترک نظریہ اور پروپیگنڈا نیٹ ورک ممکن ہیں، لیکن مقامی کمانڈ ایک ہونا ضروری نہیں۔ کسی بھی حملے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ دعویٰ کس شاخ نے کیا، حملہ کہاں ہوا اور آزاد ذرائع یا حکام نے ذمہ داری کی کس حد تک تصدیق کی۔
