اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 15 ارکان ہوتے ہیں، لیکن پانچ ممالک کو مستقل رکن کی خصوصی حیثیت حاصل ہے: چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا۔
“ویٹو” کا نظام اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 27 اور اس کے تحت بننے والے عملی طریقۂ کار سے نکلتا ہے۔ غیر انتظامی یا بنیادی نوعیت کے فیصلے کے لیے کم از کم نو مثبت ووٹ درکار ہوتے ہیں اور کسی مستقل رکن کا منفی ووٹ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانچ مستقل ارکان میں سے کوئی ایک ایسے مسودے کے خلاف ووٹ دے تو وہ منظور نہیں ہوتا، چاہے دوسرے ارکان کی بڑی تعداد اس کے حق میں ہو۔
طریقۂ کار کے معاملات مختلف ہیں۔ ان میں بھی نو مثبت ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن مستقل رکن خالص طریقۂ کار کے فیصلے کو ویٹو سے نہیں روک سکتا۔
کسی مستقل رکن کا ووٹنگ سے گریز بھی ویٹو نہیں ہوتا۔ اگر مطلوبہ نو مثبت ووٹ موجود ہوں تو مستقل رکن کے گریز کے باوجود قرارداد منظور ہو سکتی ہے۔
یہ اختیار پانچ ممالک کو کیوں ملا؟ سلامتی کونسل کی سرکاری وضاحت کے مطابق اقوام متحدہ کے بانیوں نے چین، فرانس، سوویت یونین، برطانیہ اور امریکا کو دوسری عالمی جنگ کے بعد ادارے کے قیام اور عالمی امن و سلامتی میں ان کے مرکزی کردار کی وجہ سے مستقل حیثیت دی۔ بعد میں روس نے سوویت یونین کی نشست سنبھالی۔
نظام کے ناقدین کہتے ہیں کہ ویٹو سلامتی کونسل کو مفلوج کر سکتا ہے اور پانچ ممالک کو غیر مساوی اثر دیتا ہے۔ اصل نظام کے حامی تاریخی طور پر یہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ بڑی طاقتوں کی رضامندی انہیں اجتماعی سلامتی کے نظام کے اندر رکھنے کی شرط تھی۔
یہ ویٹو جنرل اسمبلی میں لاگو نہیں ہوتا۔ وہاں مستقل ارکان کو ایسا خصوصی حق حاصل نہیں۔
اس لیے “ویٹو سے قرارداد ناکام ہوئی” سمجھنے کے لیے دیکھنا چاہیے کہ معاملہ کس نوعیت کا تھا، نو مثبت ووٹ ملے یا نہیں، اور کسی مستقل رکن نے منفی ووٹ دیا یا نہیں۔
