“مرحلہ وار معاہدہ” ایسا سفارتی انتظام ہوتا ہے جس میں ایک ہی وقت میں بڑا جامع سمجھوتہ نافذ کرنے کے بجائے چھوٹے اور باہمی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
روئٹرز نے 24 ستمبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ نیویارک میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کار ایسے راستے پر غور کر رہے تھے جس میں ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے اور واشنگٹن اپنی اقتصادی ناکہ بندی کے بعض حصے نرم یا ختم کرے۔ بات چیت ابھی طے شدہ نہیں تھی اور کئی بڑے معاملات پر اختلاف برقرار تھا۔
مرحلہ وار طریقے کی بنیاد ترتیب پر ہوتی ہے۔ ایک فریق قابلِ تصدیق قدم اٹھاتا ہے، دوسرا محدود رعایت دیتا ہے، اور اگلا مرحلہ پہلے قدم پر عمل سے مشروط ہوتا ہے۔ اس سے کسی ایک فریق کو بڑی رعایت پہلے دینے کا سیاسی خطرہ کم ہوتا ہے۔
ابتدائی مرحلہ سمندری کشیدگی کم کرنے اور تجارتی جہاز رانی محفوظ بنانے سے شروع ہو سکتا ہے۔ بدلے میں بعض اقتصادی یا جہاز رانی پابندیاں معطل کی جا سکتی ہیں۔ بعد کے مراحل میں مزید پابندیوں، فوجی سرگرمی، قیدیوں یا جوہری معاملات پر بات ممکن ہے، مگر ان موضوعات کو باضابطہ معاہدے سے پہلے طے شدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
تصدیق بہت اہم ہے۔ جہاز رانی کو بحری نقل و حرکت اور بندرگاہی اعداد و شمار سے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پابندیوں میں نرمی سرکاری لائسنس، بینکاری رسائی اور قانونی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے۔
کمزوری یہ ہے کہ مرحلہ وار معاہدے واپس بھی لیے جا سکتے ہیں۔ اگر کسی فریق کو خلاف ورزی کا یقین ہو تو پابندیاں یا دباؤ دوبارہ بحال ہو سکتا ہے۔
25 ستمبر تک یہ مذاکرات ابتدائی نوعیت کے تھے، مکمل امن معاہدہ نہیں۔
